مسئلہ ۴: مریض نے تبرع کیا مثلاً اپنی جائداد وقف کردی یا کسی اجنبی کو ہبہ کر دیا یا کسی عورت سے مہرِ مثل سے زیادہ پر نکاح کیا تو صرف تہائی مال میں اُس کا تصرف (1) نافذ ہوگا کہ یہ افعال وصیت کے حکم میں ہیں۔ (2)
مسئلہ ۵: عورت کو طلاق رجعی دی اور عدّت کے اندر مر گیا تو مطلقاً عورت وارث ہے صحت میں طلاق دی ہو یا مرض میں، عورت کی رضامندی سے دی ہو یا بغیر رضا۔ یوہیں اگر عورت کتابیہ تھی یا باندی اور طلاق رجعی کی عدّت میں مسلمان ہو گئی یا آزاد کردی گئی اور شوہر مر گیا تو مطلقاً وارث ہے اگرچہ شوہر کو اُس کے مسلمان ہونے یا آزاد ہونے کی خبر نہ ہو۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۶: اگر مرض الموت میں عورت کو بائن طلاق دی ایک دی ہو یا زیادہ اور اُسی مرض میں عدّت کے اندر مر گیا خواہ اُسی مرض سے مرا یا کسی اور سبب سے مثلاً قتل کر ڈالا گیا تو عورت وارث ہے جبکہ با ختیار خود اور عورت کی بغیر رضا مندی کے طلاق دی ہو بشرطیکہ بوقت طلاق عورت وارث ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو اگرچہ شوہر کو اس کا علم نہ ہو مثلاً عورت کتابیہ تھی یا کنیز اور اُس وقت مسلمان یا آزاد ہو چکی تھی۔ اور اگر عدّت گزرنے کے بعد مرایا اُس مرض سے اچھا ہوگيا پھر مرگیا خواہ اُسی مرض میں پھر مُبتلا ہو کر مرا یا کسی اور سبب سے یا طلاق دینے پر مجبور کیا گیا یعنی مار ڈالنے یا عضو کاٹنے کی صحیح دھمکی دی گئی ہو یا عورت کی رضا سے طلاق دی تو وارث نہ ہوگی اور اگر قید کی دھمکی دی گئی اور طلاق دیدی تو عورت وارث ہے اور اگر عورت طلاق پر راضی نہ تھی مگر مجبور کی گئی کہ طلاق طلب کرے اور عورت کی طلب پر طلاق دی تو وارث ہوگی۔ (4)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷: یہ حکم کہ مرض الموت میں عورت بائن کی گئی اور شوہر عدّت کے اندر مر جائے تو بشرائط سابقہ(5) عورت وارث ہوگی طلاق کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جو فُرقَت (6)جانبِ زوج سے ہو سب کا یہی حکم ہے مثلاً شوہر نے بخیارِ بلوغ (7) عورت کو بائن کیا یا عورت کی ماں یا لڑکی کا شہوت سے بوسہ لیا یا معاذاﷲ مرتد ہوگيا اور جو فرقت جانبِ زوجہ سے ہو اُس میں وارث نہ ہوگی مثلاً عورت نے شوہر کے لڑکے کا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا مرتد ہوگئی یا خلع کرایا۔ یوہیں اگر غیر کی جانب سے ہو مثلاً شوہر کے لڑکے نے عورت کا بوسہ لیا اگرچہ عورت کو مجبور کیا ہو ہاں اگر اس کے باپ نے حکم دیا ہو تو وارث ہوگی۔(8) (ردالمحتار)