مسئلہ ۸: مریض نے عورت کو تین طلاقیں دی تھیں اس کے بعد عورت مرتدہ ہوگئی پھر مسلمان ہوئی اب شوہر مرا تو وارث نہ ہوگی اگرچہ ابھی عدّت پوری نہ ہوئی ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۹: عورت نے طلاق رجعی یا طلاق کا سؤال کیا تھا مرد مریض نے طلاق بائن یا تین طلاقیں دیدیں اور عدّت میں مر گیا تو عورت وارث ہے۔ یوہیں عورت نے بطور خود اپنے کو تین طلاقیں دے لی تھیں اور شوہر مریض نے جائز کر دیں تو وارث ہوگی۔ اور اگر شوہر نے عورت کو اختیار دیا تھا عورت نے اپنے نفس کو اختیارکیا یا شوہر نے کہا تھا تو اپنے کو تین طلاقیں دیدے عورت نے دیدیں تو وارث نہ ہوگی۔(2) (درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: مریض نے عورت کو طلاق بائن دی تھی اور عورت ہی اَثنائے عدّ ت میں(3) مر گئی تو یہ شوہر اُس کا وارث نہ ہو گا اور اگر رجعی طلاق تھی تو وارث ہو گا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: قتل کے ليے لایا گیا تھا مگر پھر قید خانہ کو واپس کر دیا گیا یا دشمن سے میدان جنگ میں لڑرہا تھا پھر صف میں واپس گیا تو یہ اُس مریض کے حکم میں ہے کہ اچھا ہوگيا لہٰذا اُس حالت میں طلاق دی تھی اور عدّت کے اند رمارا گیا تو عورت وارث نہ ہوگی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: مریض نے طلاق دی تھی اور خود عورت نے اُسے عدّت کے اندر قتل کر ڈالا تو وارث نہ ہوگی کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں۔ (6)(عالمگيری)
مسئلہ ۱۳: عورت مریضہ تھی اور اُس نے کوئی ایسا کام کیا جس کی وجہ سے شوہر سے فرقت ہوگئی مثلاً خیار بلوغ و عتق یا شوہر کے لڑکے کا بوسہ لینا وغیرہا پھر مر گئی تو شوہر اس کا وارث ہو گا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مریض نے عورت کو طلاق بائن دی تھی اور عورت نے ابن زوج (8)کا بوسہ لیا یا مطاوعت (9) کی یا مرض