فتح القدیر وغیرہ میں ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنی زوجہ کو مرض میں طلاق بائن دی اور عدّت میں اُن کی وفات ہوگئی تو حضرت عثمان غنی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اُن کی زوجہ کو میراث دلائی اور یہ واقعہ مجمع صحابہ کرام کے سامنے ہوا اور کسی نے انکار نہ کیا۔ لہٰذا اس پر اجماع ہوگیا۔ (1)
مسئلہ ۱: مریض سے مراد وہ شخص ہے جس کی نسبت غالب گمان ہو کہ اس مرض سے ہلاک ہوجائے گا کہ مرض نے اُسے اتنا لاغر(2) کر دیا ہے کہ گھر سے باہر کے کام کے ليے نہیں جاسکتا مثلاً نماز کے ليے مسجد کو نہ جا سکتا ہو یا تاجر اپنی دوکان تک نہ جاسکتا ہو اور یہ اکثر کے لحاظ سے ہے، ورنہ اصل حکم یہ ہے کہ اُس مرض میں غالب گمان موت ہو اگرچہ ابتدائً جبکہ شدت نہ ہوئی ہو باہر جاسکتا ہو مثلاً ہیضہ وغیرہا امراض مہلکہ (3)میں بعض لوگ گھر سے باہر کے بھی کام کر لیتے ہیں مگر ایسے امراض میں غالب گمان ہلاکت ہے۔ یوہیں یہاں مریض کے ليے صاحب فراش ہونا بھی ضروری نہیں اور امراض مزمنہ مثلاً سِلْ(4)۔ فالج اگر روزبروز زیادتی پر ہوں تو یہ بھی مرض الموت ہیں اور اگر ایک حالت پر قائم ہوگئے اور پُرانے ہوگئے یعنی ایک سال کا زمانہ گزر گیا تو اب اُس شخص کے تصرفات تندرست کی مثل نافذ ہونگے۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲: مریض نے عورت کو طلاق دی تو اُسے فاربالطلاق کہتے ہیں کہ وہ زوجہ کو ترکہ سے محروم کرنا چاہتا ہے (6) اور اس کے احکام آگے آتے ہیں۔
مسئلہ ۳: جو شخص لڑائی میں دشمن سے لڑرہا ہو وہ بھی مریض کے حکم میں ہے اگرچہ مریض نہیں کہ غالب خوف ہلاک ہے۔ یوہیں جو شخص قصاص میں قتل کے ليے یا پھانسی دینے کے ليے یا سنگسار کرنے کے ليے لایا گیا یا شیروغیرہ کسی درندہ نے اُسے پچھاڑا یاکشتی میں سوار ہے اور کشتی موج کے طلاطم (7)میں پڑگئی یا کشتی ٹوٹ گئی اور یہ اُس کے کسی تختہ پر بہتا ہوا جارہا ہے تو یہ سب مریض کے حکم میں ہیں جبکہ اُسی سبب سے مربھی جائیں اور اگر وہ سبب جاتا رہا پھر کسی اور وجہ سے مرگئے تو مریض نہیں اور اگر شیر کے مونھ سے چھوٹ گیا مگر زخم ایسا کا ری لگا ہے کہ غالب گمان یہی ہے کہ اُس سے مر جائیگا تو اب بھی مریض ہے۔ (8)(فتح، درمختار وغیرہما)