مسئلہ۱۶: تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہے مگر ایک، یاکہا تجھ کو طلاق ہے ایک اور ایک اور ایک مگر ایک ، تو ان دونوں صورتوں میں تین پڑیں گی کہ ہر ایک مستقل کلام ہے اور ہر ایک سے استثنا کا تعلق ہو سکتا ہے اور استثنا چونکہ ہر ایک کا مساوی ہے لہٰذا صحیح نہیں۔(1) (بحر)
مسئلہ۱۷: اگر تین سے زائد طلاق دے کر اُن میں سے کم کا استثنا کیا تو صحیح ہے اور استثنا کے بعد جو باقی ہے واقع ہوگی مثلاً کہا تجھ پر دس طلاقیں ہیں مگر نو،تو ایک ہوگی اور آٹھ کا استثنا کیا تو دوہوں گی۔(2) (درمختار)
مسئلہ۱۸: استثنا اگر اصل پر زیادہ ہو تو باطل ہے مثلاً کہا تجھ پر تین طلاقیں مگر چار یا پانچ ،تو تین واقع ہوں گی۔ یوہیں جزو طلاق کا استثنا بھی باطل ہے مثلاً کہا تجھ پر تین طلاقیں مگر نصف تو تین واقع ہوں گی اور تین میں سے ڈیڑھ کا استثنا کیا تو دو واقع ہوں گی۔ (3)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ۱۹: اگر کہا تجھ کو طلاق ہے مگر ایک ،تو دو واقع ہوں گی کہ ایک سے ایک کا استثنا تو ہو نہیں سکتا لہٰذا طلاق سے تین طلاقیں مراد ہیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ۲۰: چند استثنا جمع کیے تو اس کی دوصورتیں ہیں، اُن کے درمیان ''اور'' کا لفظ ہے تو ہر ایک اُسی اول کلام سے استثنا ہے مثلاًتجھ پر دس طلاقیں ہیں مگر پانچ اور مگر تین اور مگر ایک ،تو ایک ہوگی اور اگر درمیان میں ''اور'' کا لفظ نہیں تو ہر ایک اپنے ماقبل سے استثنا ہے، مثلاً تجھ پر دس طلاقیں مگر نو مگر آٹھ مگر سات ،تو دو ہوں گی۔(5) (درمختار)