Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
161 - 282
    مسئلہ۱۶: تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہے تجھ کو طلاق ہے مگر ایک، یاکہا تجھ کو طلاق ہے ایک اور ایک اور ایک مگر ایک ، تو ان دونوں صورتوں میں تین پڑیں گی کہ ہر ایک مستقل کلام ہے اور ہر ایک سے استثنا کا تعلق ہو سکتا ہے اور استثنا چونکہ ہر ایک کا مساوی ہے لہٰذا صحیح نہیں۔(1) (بحر) 

    مسئلہ۱۷: اگر تین سے زائد طلاق دے کر اُن میں سے کم کا استثنا کیا تو صحیح ہے اور استثنا کے بعد جو باقی ہے واقع ہوگی مثلاً کہا تجھ پر دس طلاقیں ہیں مگر نو،تو ایک ہوگی اور آٹھ کا استثنا کیا تو دوہوں گی۔(2) (درمختار) 

    مسئلہ۱۸: استثنا اگر اصل پر زیادہ ہو تو باطل ہے مثلاً کہا تجھ پر تین طلاقیں مگر چار یا پانچ ،تو تین واقع ہوں گی۔ یوہیں جزو طلاق کا استثنا بھی باطل ہے مثلاً کہا تجھ پر تین طلاقیں مگر نصف تو تین واقع ہوں گی اور تین میں سے ڈیڑھ کا استثنا کیا تو دو واقع ہوں گی۔ (3)(عالمگیری وغیرہ) 

    مسئلہ۱۹: اگر کہا تجھ کو طلاق ہے مگر ایک ،تو دو واقع ہوں گی کہ ایک سے ایک کا استثنا تو ہو نہیں سکتا لہٰذا طلاق سے تین طلاقیں مراد ہیں۔ (4)(درمختار) 

    مسئلہ۲۰: چند استثنا جمع کیے تو اس کی دوصورتیں ہیں، اُن کے درمیان ''اور'' کا لفظ ہے تو ہر ایک اُسی اول کلام سے استثنا ہے مثلاًتجھ پر دس طلاقیں ہیں مگر پانچ اور مگر تین اور مگر ایک ،تو ایک ہوگی اور اگر درمیان میں ''اور'' کا لفظ نہیں تو ہر ایک اپنے ماقبل سے استثنا ہے، مثلاً تجھ پر دس طلاقیں مگر نو مگر آٹھ مگر سات ،تو دو ہوں گی۔(5) (درمختار)
طلاق مریض کا بیان
    امیرالمومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ فرمايا اگر مریض طلاق دے تو عورت جب تک عدّت میں ہے شوہر کی وارث ہے اور شوہر اُس کا وارث نہیں۔ (6)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''البحر الرائق'' ، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۹. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۳۰.

ـ3۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الرابع، ج۱، ص۴۵۷ وغیرہ.

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۳۲. 

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' ، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۳۱. 

6۔۔۔۔۔۔ ''المصنف'' لعبد الرزاق، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، الحدیث: ۱۲۲۴۸، ج۷، ص۴۷.
Flag Counter