اُس نے طلاق چاہی تو ہوئی ورنہ نہیں یعنی اپنی زبان سے اگر طلاق چاہنا ظاہر کیا ہوگئی اگرچہ دل میں نہ چاہتا ہو۔(1) (عالمگيری)
مسئلہ۱۲: تجھ کو طلاق اگر تیرا مہر نہ ہوتا یا تیری شرافت نہ ہوتی یا تیرا باپ نہ ہوتا یا تیرا حسن و جمال نہ ہوتا یا اگر میں تجھ سے محبت نہ کرتا ہوتا ان سب صورتوں میں طلاق نہ ہوگی۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ۱۳: اگر انشاء اﷲ کو مقدم کیا یعنی یوں کہا انشاء اﷲ تجھ کو طلاق ہے جب بھی طلاق نہ ہوگی اور اگر یوں کہا کہ تجھ کو طلاق ہے انشاء اﷲ اگر تو گھر میں گئی تو مکان میں جانے سے طلاق نہ ہوگی۔ اور اگر انشاء اﷲ دوجملے طلاق کے درمیان میں ہو مثلاً کہا تجھ کو طلاق ہے انشاء اﷲ تجھ کو طلاق ہے تو استثنا پہلے کی طرف رجوع کریگا لہٰذا دوسرے سے طلاق ہو جائے گی۔ یوہیں اگر کہا تجھ کو تین طلاقیں ہیں انشاء اﷲ تجھ پر طلاق ہے تو ایک واقع ہوگی۔ (3)(بحر ، درمختار، خانیہ)
مسئلہ۱۴: اگر کہا تجھ پر ایک طلاق ہے اگر خدا چاہے اور تجھ پر دو طلاقیں اگر خدانہ چاہے تو ایک بھی واقع نہ ہوگی اور اگر کہا تجھ پر آج ایک طلاق ہے اگر خد ا چاہے اور اگر خدا نہ چاہے تو دو اور آج کا دن گزر گیا اور عورت کو طلاق نہ دی تو دو واقع ہوئیں اور اگر اُس دن ایک طلاق دیدی تو یہی ایک واقع ہوگی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ۱۵: اگر تین طلاقیں دےکر اُن میں سے ایک یا دو کا استثنا کرے تو یہ استثنا صحیح ہے یعنی استثنا کے بعد جو باقی ہے واقع ہوگی مثلاً کہا تجھ کو تین طلاقیں ہیں مگر ایک تو دو ہونگی اور اگر کہا مگر دو تو ایک ہوگی۔ اور کل کا استثنا صحیح نہیں خواہ اُسی لفظ سے ہو مثلاً تجھ پر تین طلاقیں مگر تین یا ایسے لفظ سے ہو جس کے معنی کل کے مساوی ہوں مثلاً کہا تجھ پر تین طلاقیں ہیں مگر ایک اور ایک اور ایک یا مگردو اور ایک ،تو ان صورتوں میں تینوں واقع ہونگی۔ یا اُس کی کئی عورتیں ہیں سب کو مخاطب کرکے کہا تم سب کو طلاق ہے مگرفلانی اور فلانی اور فلانی نا م لیکر سب کا استثنا کردیاتو سب مطلقہ ہوجائیں گی اور اگر باعتبار معنی کے وہ لفظ مساوی نہ ہو اگرچہ اس خاص صورت میں مساوی ہو تو استثنا صحیح ہے مثلاًکہا میری ہر عورت پر طلاق مگر فلانی اور فلانی پر، تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ اُسکی یہی دو عورتیں ہوں۔ (5)(درمختار وغیرہ)