دونوں کو لکھا پھر لفظ استثنا مٹا دیا طلاق واقع نہ ہوئی۔ (1)(درمختار)
مسئلہ۷: دوشخصوں نے شہادت دی کہ تو نے انشاء اﷲ کہا تھا مگر اسے یاد نہیں تو اگر اُس وقت غصہ زیادہ تھا اور لڑائی جھگڑے کی وجہ سے یہ احتمال ہے کہ بوجہ مشغولی یادنہ ہو گا تو اُن کی بات پر عمل کر سکتا ہے اور اگر اتنی مشغولی نہ تھی کہ بھول جاتا تو اُن کا قول نہ مانے۔(2) (درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ۸: تجھ کو طلاق ہے مگر یہ کہ خدا چاہے یا اگر خدانہ چاہے یا جو اﷲ (عزوجل) چاہے یا جب خدا چاہے یا مگر جو خدا چاہے یا جب تک خدا نہ چاہے یا اﷲ (عزوجل) کی مشیت (3) یا ارادہ یا رضا کے ساتھ یا اﷲ (عزوجل) کی مشیت یا ارادہ یا اُس کی رضا یاحکم یا اذن(4) یا امر میں ،تو طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر یوں کہا کہ اﷲ (عزوجل) کے امر یا حکم یا اذن یا علم یا قضا یا قدرت سے یا اﷲ (عزوجل) کے علم میں یااُس کی مشیت یا ارادہ یا حکم وغیرہا کے سبب تو ہو جائے گی۔(5) (عالمگیری ، درمختار)
مسئلہ۹: ایسے کی مشیت پر طلاق معلق کی جس کی مشیت کا حال معلوم نہ ہوسکے یا اُس کے ليے مشیت ہی نہ ہو تو طلاق نہ ہوگی جیسے جن و ملائکہ اور دیوار اور گدھا وغیرہا۔ یوہیں اگر کہا کہ اگر خدا چاہے اور فلاں(6) تو طلاق نہ ہوگی اگرچہ فلاں کا چاہنا معلوم ہو۔ یوہیں اگرکسی سے کہا تو میری عورت کو طلاق دیدے اگر اﷲ (عزوجل) چاہے اور تو یا جو اﷲ (عزوجل) چاہے اور تو اور اُس نے طلاق دیدی طلاق واقع نہ ہوئی۔(7) (عالمگیری ،درمختار)
مسئلہ۱۰: عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے اگر اﷲ (عزوجل) میری مدد کرے یا اﷲ (عزوجل) کی مدد سے اور نیت استثنا کی ہے تو دیانۃًطلاق نہ ہوئی۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ۱۱: تجھ کو طلاق ہے اگر فلاں چاہے یا ارادہ کرے یا پسند کرے یا خواہش کرے۔ یا مگر یہ کہ فلاں اس کے غیر کا ارادہ کرے یا پسند کرے یا خواہش کرے یا چاہے یا مناسب جانے تو یہ تملیک (9) ہے لہٰذا جس مجلس میں اُس شخص کو علم ہوا اگر