| بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8) |
کرنے دے۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ۲: سانس یا چھینک یا کھانسی یا ڈکار یا جماہی یا زبان کی گرانی (2)کی وجہ سے یا اس وجہ سے کہ کسی نے اس کا مونھ بند کر دیا اگر وقفہ ہوا تو اتصال (3)کے منافی نہیں۔ یوہیں اگر درمیان میں کوئی مفید بات کہی تو اتصال کے منافی نہیں مثلاً تاکید کی نیت سے لفظ طلاق دو بار کہہ کر استثنا کا لفظ بولا۔ (4)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ۳: درمیان میں کوئی غیر مفید بات کہی پھر استثنا کیا تو صحیح نہیں مثلاً تجھ کو طلاق رجعی ہے ان شاء اللہ تو طلاق ہوگئی اور اگر کہا تجھ کو طلاق بائن ہے ان شاء اللہ تو واقع نہ ہوئی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۴: لفظ ان شاء اللہ اگرچہ بظاہر شرط معلوم ہوتا ہے مگر اس کا شمار استثنا میں ہے مگر اُنھیں چیزوں میں جن کا وجود بولنے پر موقوف ہے مثلاً طلاق و حلف وغیرہما اور جن چیزوں کو تلفظ سے خصوصیت نہیں وہاں استثنا کے معنی نہیں مثلاً یہ کہانَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ غَداً اِن شَاءَ اللہُ تَعَالٰی (6)
کہ یہاں نہ استثنا ہے نہ نیت روزہ پر اسکا اثر بلکہ یہ لفظ ایسے مقام پر برکت و طلب توفیق کے ليے ہوتا ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۵: عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے ان شاء اللہ تعالیٰ طلاق واقع نہ ہوئی اگرچہ ان شاء اللہ کہنے سے پہلے مرگئی اور اگر شوہر اتنا لفظ کہہ کر کہ تجھ کو طلاق ہے مر گیا ان شاء اللہ کہنے کی نوبت نہ آئی مگر اُس کا ارادہ اس کے کہنے کا بھی تھا تو طلاق ہو گئی رہا یہ کہ کیونکر معلوم ہوا کہ اُس کا ارادہ ایسا تھا یہ یوں معلوم ہوا کہ پہلے سے اُس نے کہدیا تھا کہ میں اپنی عورت کو طلاق دے کر استثنا کروں گا۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ۶: استثنا میں یہ شرط نہیں کہ بالقصد(9) کہا ہو بلکہ بلا قصد(10) زبان سے نکل گیا جب بھی طلاق واقع نہ ہوگی، بلکہ اگر اُس کے معنے بھی نہ جانتا ہو جب بھی واقع نہ ہوگی اور یہ بھی شرط نہیں کہ لفظ طلاق و استثنا دونوں بولے، بلکہ اگر زبان سے طلاق کا لفظ کہا اور فوراً لفظ ان شاء اللہ لکھ دیا یا طلاق لکھی اور زبان سے انشاء اﷲ کہہ دیا جب بھی طلاق واقع نہ ہوئی یاــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''. 2۔۔۔۔۔۔یعنی لُکنت۔ 3۔۔۔۔۔۔یعنی ملاہواہونا۔ 4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۶۱۷ وغیرہ. 5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۶۱۷ . 6۔۔۔۔۔۔ترجمہ:میں نیت کرتاہوں کہ کل روزہ رکھوں گاان شاء اللہ تعالیٰ۔ 7۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: مسائل الاستثناء، ومطلب: الاستثناء یثبت حکمہ...الخ، ج۴، ص۶۱۶. 8۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: قال: انت طالق وسکت...الخ، ج۴، ص۶۱۶ ، ۶۱۹. 9۔۔۔۔۔۔ارادتاً۔ 10۔۔۔۔۔۔ارادہ کے بغیر۔