Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
157 - 282
میں اجازت دی اور عورت عربی نہ جانتی ہو تو اجازت نہ ہوئی لہٰذا اگر نکلے گی طلاق ہو جائے گی۔ یوہیں سوتی تھی یا موجود نہ تھی یا اُس نے سُنا نہیں تو یہ اجازت نا کافی ہے یہاں تک کہ شوہر نے اگر لوگوں کے سامنے کہا کہ میں نے اُسے نکلنے کی اجازت دی مگر یہ نہ کہا کہ اُس سے کہہ دو یا خبر پہنچا دو اور لوگوں نے بطور خود عورت سے جاکر کہاکہ اُس نے اجازت دیدی اور اُن کے کہنے سے عورت نکلی طلاق ہوگئی۔ اگر عورت نے میکے جانے کی اجازت مانگی شوہر نے اجازت دی مگر عورت اُس وقت نہ گئی کسی اور وقت گئی تو طلاق ہوگئی۔ (1)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۶: اس بچہ کو اگر گھر سے باہر نکلنے دیا تو تجھ کو طلاق ہے، عورت غافل ہو گئی یا نماز پڑھنے لگی اور بچہ نکل بھا گا توطلاق نہ ہوگی۔ اگر تو اس گھر کے دروازہ سے نکلی تو تجھ پر طلاق، عورت چھت پر سے پڑوس کے مکان میں گئی طلاق نہ ہوئی۔(2)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۷: تجھ پر طلاق ہے یا میں مرد نہیں، تو طلاق ہوگئی اور اگر کہا تجھ پر طلاق ہے یا میں مرد ہوں تو نہ ہوئی۔(3)(خانیہ) 

    مسئلہ ۳۸: اپنی عورت سے کہا اگر تو میری عورت ہے تو تجھے تین طلاقیں اور اُس کے متصل ہی(4) اگر ایک طلاق بائن دیدی ،تو یہی ایک پڑے گی ورنہ تین۔(5) (خانیہ)
استثنا کا بیان
    استثناکے ليے شرط یہ ہے کہ کلام کے ساتھ متصل ہو یعنی بلاوجہ نہ سکوت کیا ہونہ کوئی بیکار بات درمیان میں کہی ہو ، اور یہ بھی شرط ہے کہ اتنی آواز سے کہے کہ اگر شوروغل وغیرہ کوئی مانع (6)نہ ہو تو خودسُن سکے بہرے کا استثنا صحیح ہے۔ (7)

    مسئلہ ۱: عورت نے طلاق کے الفاظ سُنے مگر استثنا نہ سُنا تو جس طرح ممکن ہو شوہر سے علیحدہ ہو جائے اُسے جماع نہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ'' ، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الثالث، ج۱، ص۴۳۸،۴۳۹ .

2۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۴۴۱. 

3۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۲، ص۲۲۴. 

4۔۔۔۔۔۔ فوراً ہی یعنی درمیان میں کوئی اور کلام وغیرہ نہ کیا۔

5 ۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''، کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۲، ص۲۲۶. 

6۔۔۔۔۔۔     یعنی رکاوٹ۔

7۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار'' و ''ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: الاستثناء یطلق علی الشرط لغۃ واستعمالا، ج۴، ص۶۱۷ ۔ ۶۱۹.

و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۲، ص۲۴۲.
Flag Counter