طلاق نہ ہوئی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: کوئی شخص مکان میں ہے لوگ اُسے نکلنے نہیں دیتے، اُس نے کہا اگر میں یہاں سوؤں تو میری عورت کو طلاق ہے اُسکا مقصد خاص وہ جگہ ہے جہاں بیٹھا یا کھڑا ہے پھر اُسی مکان میں سویا مگر اُس جگہ سے ہٹ کر تو قضائً طلاق ہو جائے گی دیانۃً نہیں۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: عورت سے کہا اگر تو اپنے بھائی سے میری شکایت کریگی تو تجھ کو طلاق ہے، اُس کا بھائی آیا عورت نے کسی بچہ کو مخاطب کرکے کہا میرے شوہر نے ایسا کیا ایسا کیا اور اُسکا بھائی سب سُن رہا ہے طلاق نہ ہو گی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: آپس میں جھگڑرہے تھے مرد نے کہا اگر تو چُپ نہ رہے گی تو تجھ کو طلاق ہے، عورت نے کہا نہیں چُپ ہوں گی اِس کے بعد خاموش ہوگئی طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں اگر کہا کہ توچیخے گی تو تجھ کو طلاق ہے عورت نے کہا چیخوں گی تو مگر پھر چُپ ہوگئی طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں اگر کہا کہ فلاں کا ذکر کرے گی تو ایسا ہے عورت نے کہا میں اُس کا ذکر نہ کروں گی یا کہا جب تو منع کرتا ہے تو اُس کا ذکر نہ کروں گی طلاق نہ ہوگی کہ اتنی بات مستثنےٰ ہے۔(4) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۳: عورت نے فاقہ کشی کی شکایت کی، شوہر نے کہا اگر میرے گھر تو بھوکی رہے تو تجھے طلاق ہے، تو علاوہ روزے کے بھوکی رہنے پر طلاق ہوگی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ کو طلاق ہے اور وہ شخص مر گیا اور مکان ترکہ میں چھوڑااب وہاں جانے سے طلاق نہ ہوگی۔ یوہیں اگر بیع یا ہبہ(6) یا کسی اور وجہ سے اُس کی مِلک میں مکان نہ رہا جب بھی طلاق نہ ہوگی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: عورت سے کہا اگر تو بغیر میری اجازت کے گھر سے نکلی توتجھ پر طلاق پھر سائل نے دروازہ پر سوال کیا شوہر نے عورت سے کہا اُسے روٹی کا ٹکڑا دے آ اگر سائل دروازہ سے اتنے فاصلہ پر ہے کہ بغیر باہر نکلے نہیں دے سکتی تو باہر نکلنے سے طلاق نہ ہوگی اوراگر بغیر باہر نکلے دے سکتی تھی مگر نکلی تو طلاق ہوگئی او ر اگر جس وقت شوہر نے عورت کو بھیجا تھا اُس وقت سائل دروازہ سے قریب تھا اور جب عورت وہاں لے کر پہنچی تو ہٹ گیا تھا کہ عورت کو نکل کر دینا پڑا جب بھی طلاق ہوگئی۔ اور اگر عربی