مسئلہ ۲۴: حمل پر طلاق معلق کی ہو تو مستحب یہ ہے کہ استبرا یعنی حیض کے بعد وطی کرے کہ شاید حمل ہو۔ (1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: اگر دوشرطوں پر طلاق معلق کی مثلاً جب زید آئے اور جب عمرو آئے یا جب زیدو عمرو آئیں تو تجھ کو طلاق ہے تو طلاق اُس وقت واقع ہوگی کہ پچھلی شرط اس کی مِلک(2) میں پائی جائے اگرچہ پہلی اُس وقت پائی گئی کہ عورت ملک میں نہ تھی مثلاً اُسے طلاق دیدی تھی اور عدّت گزر چکی تھی اب زید آیا پھر اُس سے نکاح کیا اب عمرو آیا تو طلاق واقع ہوگئی اور دوسری شرط ملک میں نہ ہو تو پہلی اگرچہ ملک میں پائی گئی طلاق نہ ہوئی۔(3) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۶: وطی پر تین طلاقیں معلق کی تھیں تو حشفہ(4) داخل ہونے سے طلاق ہو جائے گی، اور واجب ہے کہ فور اً جُدا ہوجائے۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۷: اپنی عورت سے کہا جب تک تو میرے نکاح میں ہے اگر میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اُسے طلاق پھر عورت کو طلاق بائن دی اور عدّت کے اندر دوسری عورت سے نکاح کیا تو طلاق نہ ہو ئی اور رجعی کی عدّت میں تھی تو ہوگئی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۲۸: کسی کی تین عورتیں ہیں، ایک سے کہا اگر میں تجھے طلاق دوں تو اُن دونوں کو بھی طلاق ہے، پھر دوسری اور تیسری سے بھی یوہیں کہا، پھر پہلی کو ایک طلاق دی ،تو اُن دونوں کو بھی ایک ایک ہوئی اور اگر دوسری کو ایک طلاق دی تو پہلی کو ایک ہوئی اور دوسری اور تیسری پر دو دو، اور اگر تیسری عور ت کو ایک طلاق دی تو اس پر تین ہوئیں اور دوسری پر دو، اور پہلی پر ایک۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: یہ کہا کہ اگر اس شب میں تو میرے پاس نہ آئی تو تجھے طلاق، عورت دروازہ تک آئی اندر نہ گئی، طلاق ہوگئی اور اگر اندر گئی مگر شوہر سو رہاتھا تو نہ ہوئی اور پاس آنے میں یہ شرط ہے کہ اتنی قریب آجائے کہ شوہر ہاتھ بڑھائے تو عورت تک پہنچ جائے۔ مرد نے عورت کو بلایا اُس نے انکار کیا اس پر کہا اگر تو نہ آئی تو تجھ کو طلاق ہے ،پھر شوہر خود زبر دستی اُسے لے آیا