سمجھے اور عدّت بھی دوسرے بچے کے پیدا ہونے سے پوری ہوگئی لہٰذا اب رجعت بھی نہیں کرسکتا اور دونوں ایک ساتھ پیدا ہوں تو تین طلاقیں ہوں گی اور عدّت حیض سے پوری کرے اور خنثیٰ (1)پیدا ہوا تو ایک ابھی واقع مانی جائے گی اور دوسری کا حکم اُس وقت تک موقوف رہیگا جب تک اُس کا حال نہ کھلے اور اگر ایک لڑکا اور دو لڑکیاں ہوئیں تو قاضی دوکا حکم دیگا اور احتیاط یہ ہے کہ تین سمجھے اور اگر دولڑکے اور ایک لڑکی ہوئی تو قاضی ایک کا حکم دیگا اور احتیاطاً تین سمجھے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: یہ کہا کہ جو کچھ تیرے شکم (3)میں ہے اگر لڑکا ہے تو تجھ کو ایک طلاق اور لڑکی ہے تو دو، اور لڑکا لڑکی دونوں پیدا ہوئے تو کچھ نہیں۔ یوہیں اگر کہا کہ بوری میں جو کچھ ہے اگر گیہوں ہیں تو تجھے طلاق یاآٹا ہے تو تجھے طلاق، اور بوری میں گیہوں اور آٹا دونوں ہیں تو کچھ نہیں اور یوں کہا کہ اگر تیرے پیٹ میں لڑکا ہے تو ایک طلاق اور لڑکی تو دو اور دونوں ہوئے تو تین طلاقیں ہوئیں۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: عورت سے کہا اگر تیرے بچہ پیدا ہو تو تجھ کو طلاق، اب عورت کہتی ہے میرے بچہ پیدا ہوا اور شوہر تکذیب کرتا ہے(5) اور حمل ظاہر نہ تھانہ شوہر نے حمل کا اقرار کیا تھا تو صرف جنائی(6) کی شہادت پر حکم طلاق نہ دینگے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: یہ کہا کہ اگر تو بچہ جنے تو طلاق ہے اور مُردہ بچہ پیدا ہوا طلاق ہوگئی اور کچا بچہ جنی اور بعض اعضا بن چکے تھے جب بھی طلاق ہوگئی ورنہ نہیں۔(8) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۳: عورت سے کہا اگر تو بچہ جنے تو تجھ کو طلاق، پھر کہا اگر تو اُسے لڑکا جنے تو دو طلاقیں ،اور لڑکا ہوا تو تین واقع ہوگئیں۔ (9) (ردالمحتار)اور اگر یوں کہا کہ تو اگر بچہ جنے تو تجھ کو دوطلاقیں ،پھر کہا وہ بچہ کہ تیرے شکم میں ہے لڑکا ہو تو تجھ کو طلاق، اور لڑکا ہوا تو ایک ہی طلاق ہوگی اور بچہ پیدا ہوتے ہی عدّت بھی گزر جائے گی۔(10) (عالمگیری)