رہی تو طلاق ہوگئی اور مکان میں داخل ہونے یامکان سے نکلنے پر تعلیق کی تو آئندہ کا جانا اور نکلنا مراد ہے اور مارنے اور کھانے سے مراد وہ ہے جو اب کہنے کے بعد ہوگا اور روزہ رکھنے پر معلق کیا اور تھوڑی دیر بھی روزہ کی نیت سے رہی تو طلاق ہوگئی اور اگر یہ کہا کہ ایک دن اگر تو روزہ رکھے تو اُس وقت طلاق ہوگی کہ اُس دن کاآفتاب ڈوب جائے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: یہ کہا اگر تجھے حیض آئے تو طلاق ہے، تو عورت کو خون آتے ہی طلاق کا حکم نہ دینگے جب تک تین دن رات تک مُستَمِر (2) نہ ہو، اور جب یہ مدت پوری ہوگی تو اُسی وقت سے طلاق کا حکم دینگے جب سے خون دیکھا ہے اور یہ طلاق بدعی ہوگی کہ حیض میں واقع ہوئی۔ اور یہ کہا کہ اگر تجھے پورا حیض آئے یا آدھا یا تہائی یا چوتھائی تو ان سب صورتوں میں حیض ختم ہونے پر طلاق ہوگی پھر اگر دس دن پر حیض ختم ہو تو ختم ہوتے ہی اور کم میں منقطع (3)ہو تو نہانے یا نماز کا وقت گزر جانے پر ہوگی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۷: حیض اور احتلام وغیرہ مخفی (5)چیزیں عورت کے کہنے پر مان لی جائینگی مگر دوسرے پر اس کا کچھ اثر نہیں مثلاًعورت سے کہا اگر تجھے حیض آئے تو تجھ کو اور فلانی کو طلاق ہے، اور عورت نے اپنا حائض (6) ہونا بتا یا تو خود اس کو طلاق ہوگئی دوسری کو نہیں ہاں اگر شوہر نے اُس کے کہنے کی تصدیق کی یا اُس کاحائض ہونا یقین کے ساتھ معلوم ہوا تو دوسری کو بھی طلاق ہوگی۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: کسی کی دو عورتیں ہیں دونوں سے کہا جب تم دونوں کو حیض آئے تو دونوں کو طلاق ہے ،دونوں نے کہا ہمیں حیض آیا اور شوہر نے دونوں کی تصدیق کی تو دونوں مطلقہ ہو گئیں اور دونوں کی تکذیب کی تو کسی کو نہیں اور ایک کی تصدیق کی اور ایک کی تکذیب ،ــتو جس کی تصدیق کی ہے اُسے طلاق ہوئی اور جس کی تکذیب کی اُس کو نہیں۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: یہ کہا کہ تو لڑکا جنے تو ایک طلاق اور لڑکی جنے تو دو۲، اور لڑکا لڑکی دونوں پیدا ہوئے تو جو پہلے پیداہوا اُسی کے بموجب طلاق واقع ہوگی اور معلوم نہ ہو کہ پہلے کیا پیدا ہوا تو قاضی ایک طلاق کا حکم دیگا اور احتیاط یہ ہے کہ شوہر دو طلاقیں