Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
152 - 282
چار مرتبہ اُس کے گھر گیا تو ہربار میں ایک طلاق واقع ہوئی لہٰذا اگر عورت کو معیّن نہ کیا ہو تو اب اختیار ہے کہ چاہے تو سب طلاقیں ایک پر کردے یا ایک ایک، ایک ایک پر(1)۔ اور اگر دوشخصوں سے یہ کہاجب کبھی میں تم دونوں کے یہاں کھانا کھاؤں تو میری عورت کو طلاق ہے اور ایک دن ایک کے یہاں کھاناکھایا دوسرے دن دوسرے کے یہاں،تو عورت کو تین طلاقیں پڑگئیں یعنی جبکہ تین لقمے یا زیادہ کھایا ہو۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۲: یہ کہا کہ جب کبھی میں کوئی اچھا کلام زبان سے نکالوں تو تجھ پر طلاق ہے ،اس کے بعد کہا
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلا اِلٰہَ اِلاَّاللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ
تو ایک طلاق واقع ہوگی اور اگر بغیر واو کے
سُبْحٰنَ اللہِ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ لا اِلٰہ اِلاَّ اَللہُ اَللہُ اَکْبَرْ
کہا تو تین۔(3) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۳: یہ کہا کہ جب کبھی میں اِس مکان میں جاؤں اور فلاں سے کلام کروں تو میری عورت کو طلاق ہے، اُس کے بعد اُس گھر میں کئی مرتبہ گیا مگر اُس سے کلام نہ کیا تو عورت کو طلاق نہ ہوئی اور اگر جانا کئی بار ہوا اور کلام ایک بار تو ایک طلاق ہوئی۔ (4)(عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۴: شوہر نے دروازہ کی کنڈی بجائی کہ کھول دیا جائے اور کھولانہ گیا اُس نے کہا اگر آج رات میں تُو دروازہ نہ کھولے تو تجھ کو طلاق ہے اور گھر میں کوئی تھا ہی نہیں کہ دروازہ کھولتا، یوہیں رات گزر گئی تو طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں اگر جیب میں روپیہ تھا مگر ملا نہیں اس پر کہا اگر وہ روپیہ کہ تو نے میری جیب سے لیا ہے واپس نہ کرے تو تجھ کو طلاق ہے پھر دیکھا تو روپیہ جیب ہی میں تھا تو طلاق واقع نہ ہوئی۔(5) (خانیہ وغیرہا) 

    مسئلہ ۱۵: عورت کو حیض ہے اور کہا اگر تو حائض ہو تو تجھ کو طلاق، یا عورت بیمار ہے اور کہا اگر تو بیمار ہو تو تجھ کو طلاق، تو اِس سے وہ حیض یا مرض مراد ہے کہ زمانہ آئندہ میں ہواور اگر اس موجود کی نیت کی تو صحیح ہے اور اگر کہا کہ کل اگر تو حائض ہو تو تجھ کو طلاق اور اُسے علم ہے کہ حیض سے ہے تو یہی حیض مراد ہے، لہٰذا اگر صبح چمکتے وقت حیض رہا تو طلاق ہوگئی جبکہ اُس وقت تین دن پورے یا اس سے زائد ہوں۔ اور اگر اُسے اس حیض کا علم نہیں تو جدید حیض مراد ہوگا لہٰذا طلاق نہ ہوگی اور اگر کھڑے ہونے، بیٹھنے، سوار ہونے، مکان میں رہنے پر تعلیق کی اور کہتے وقت وہ بات موجود تھی تو اس کہنے کے کچھ بعد تک اگر عورت اُسی حالت پر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی ایک ایک طلاق ایک ایک عورت پرکردے۔

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط، الفصل الثاني، ج۱، ص۴۱۶. 

3۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق.         4۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق، ص۴۱۷.

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق،باب التعلیق، ج۲، ص۲۳۲، وغیرہا.
Flag Counter