Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
151 - 282
کہا جب کبھی تو فلاں کے گھر جائے یا فلاں سے بات کرے تو تجھ کو طلاق ہے تو اگر اُس کے گھر تین بار گئی تین طلاقیں ہو گئیں اب تعلیق کا حکم ختم ہوگيا یعنی اگر وہ عورت بعد حلالہ پھر اُس کے نکاح میں آئی اب پھر اُس کے گھر گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی ہاں اگر یوں کہا ہے کہ جب کبھی میں اُس سے نکاح کروں تو اُسے طلاق ہے تو تین پر بس نہیں بلکہ سوبار بھی نکاح کرے تو ہر بار طلاق واقع ہوگی۔(1) (عامہ کتب) یوہیں اگر یہ کہا کہ جس جس شخص سے تو کلام کرے تجھ کو طلاق ہے یا ہر اُس عورت سے کہ میں نکاح کروں اُسے طلاق ہے یا جس جس وقت تو یہ کام کرے تجھ پر طلاق ہے کہ یہ الفاظ بھی عموم کے واسطے ہیں، لہٰذا ایک بار میں تعلیق ختم نہ ہوگی۔ 

    مسئلہ ۸: عورت سے کہا جب کبھی میں تجھے طلاق دوں تو تجھے طلاق ہے اور عورت کو ایک طلاق دی تو دو واقع ہوئیں ایک طلاق تو خود اب اُس نے دی اور ایک اُس تعلیق کے سبب اور اگر یوں کہا کہ جب کبھی تجھے طلاق ہو تو تجھ کوطلاق ہے اور ایک طلاق دی تو تین ہوئیں ایک تو خود اس نے دی اور ایک تعلیق کے سبب اور دوسری طلاق واقع ہونے سے طلاق ہونا پایا گیا لہٰذا ایک اور پڑیگی کہ یہ لفظ عموم کے ليے ہے مگر بہر صورت تین سے متجاوز(2) نہیں ہو سکتی۔(3) (درمختار) 

    مسئلہ ۹: شرط پائی جانے سے تعلیق ختم ہو جاتی ہے اگرچہ شرط اُس وقت پائی گئی کہ عورت نکاح سے نکل گئی ہو البتہ اگر عورت نکاح میں نہ رہی تو طلاق واقع نہ ہوگی مثلاً عورت سے کہا تھا اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ کو طلاق ہے، اس کے بعد عورت کو طلاق دیدی اور عدّت گزر گئی اب عورت اُس کے گھر گئی پھر شوہر نے اُس سے نکاح کرلیا اب پھر گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی کہ تعلیق ختم ہوچکی ہے لہٰذا اگر کسی نے یہ کہا ہو کہ اگر تو فلاں کے گھر جائے تو تجھ پر تین طلاقیں اور چاہتا ہو کہ اُس کے گھر آمدورفت شروع ہو جائے تو اُس کا حیلہ یہ ہے کہ عورت کو ایک طلاق دیدے پھر عدّت کے بعد عورت اُس کے گھر جائے پھر نکاح کرلے اب جایا آیا کرے طلاق واقع نہ ہوگی مگر عموم کے الفاظ استعمال کيے ہوں تو یہ حیلہ کام نہیں دیگا۔(4) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۱۰: یہ کہا کہ ہر اُس عورت سے کہ میں نکاح کروں اُسے طلاق ہے تو جتنی عورتوں سے نکاح کریگا سب کو طلاق ہو جائے گی اور اگر ایک ہی عورت سے دوبار نکاح کیا تو صرف پہلی بار طلاق پڑیگی دوبارہ نہیں۔(5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۱: یہ کہا کہ جب کبھی میں فلاں کے گھر جاؤں تو میری عورت کو طلاق ہے اور اُس شخص کی چار عورتیں ہیں اور
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب الطلاق، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط...الخ، الفصل الاول ،ج۱، ص۴۱۵.

2۔۔۔۔۔۔زیادہ۔

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، باب التعلیق، ج۴، ص۵۹۷ ۔ ۶۰۱.     

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' و''ردالمحتار''، کتاب الطلاق،باب التعلیق،مطلب مہم: الاضافۃ للتعریف...الخ،ج۴،ص۶۰۰.

5۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الرابع في الطلاق بالشرط، الفصل الاول، ج۱، ص۴۱۵.
Flag Counter