رجعی میں بھی عورت نکاح سے نکل جاتی ہے خلاصہ یہ ہے کہ ملک نکاح جانے سے تعلیق باطل نہیں ہوتی۔(1) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: شوہر مرتد ہوکر دارالحرب کو چلا گیا تو تعلیق باطل ہوگئی یعنی اب اگر مسلمان ہوا اور اُس عورت سے نکاح کیا پھر شرط پائی گئی تو طلاق واقع نہ ہوگی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳: شرط کا محل جاتا رہا تعلیق باطل ہو گئی مثلاً کہا اگر فلاں سے بات کرے تو تجھ پر طلاق اب وہ شخص مر گیا تو تعلیق باطل ہو گئی لہٰذا اگر کسی ولی کی کرامت سے جی گیا (3)اب کلام کیا طلاق واقع نہ ہوگی یا کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھ پر طلاق اور وہ مکان منہدم ہو کر (4) کھیت یا باغ بن گیا تعلیق جاتی رہی اگرچہ پھر دوبارہ اُس جگہ مکان بنایا گیا ہو۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: یہ کہا اگر تو اس گلاس میں کا پانی پیے گی تو تجھ پر طلاق ہے اور گلاس میں اُس وقت پانی نہ تھا تو تعلیق باطل ہے اور اگر پانی اُس وقت موجودتھا پھر گرادیا گیا تو تعلیق صحیح ہے۔
مسئلہ ۵: زوجہ کنیز(6) ہے اُس سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھ پر تین طلاقیں پھر اُس کے مالک نے اُسے آزاد کر دیا اب گھر میں گئی تو دو طلاقیں پڑیں اور شوہر کو رجعت کا حق حاصل ہے کہ بوقت تعلیق تین طلاق کی اُس میں صلاحیت نہ تھی لہٰذا دوہی کی تعلیق ہوگی اور اب کہ آزاد ہوگئی تین کی صلاحیت اُس میں ہے مگر اُس تعلیق کے سبب دوہی واقع ہونگی کہ ایک طلاق کا اختیار شوہر کو اب جدیدحاصل ہوا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۶: حروف شرط اُردو زبان میں یہ ہیں۔ اگر، جب، جس وقت، ہر وقت، جو، ہر، جس، جب کبھی، ہر بار۔
مسئلہ ۷: ایک مرتبہ شرط پائی جانے سے تعلیق ختم ہوجاتی ہے یعنی دوبارہ شرط پائی جانے سے طلاق نہ ہوگی مثلاً عورت سے کہا اگر تو فلاں کے گھر میں گئی یا تو نے فلاں سے بات کی تو تجھ کو طلاق ہے عورت اُس کے گھر گئی تو طلاق ہوگئی دوبارہ پھر گئی تو اب واقع نہ ہوگی کہ اب تعلیق کا حکم باقی نہیں مگر جب کبھی یا جب جب یا ہر بار کے لفظ سے تعلیق کی ہے تو ایک دوبارپر تعلیق ختم نہ ہوگی بلکہ تین بارمیں تین طلاقیں واقع ہونگی کہ یہ کُلَّما کا ترجمہ ہے اور یہ لفظ عموم افعال کے واسطے آتا ہے مثلاًعورت سے