Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
149 - 282
تعليق کا بیان
    تعلیق کے معنے یہ ہیں کہ کسی چیز کا ہونا دوسری چیز کے ہونے پر موقوف کیا جائے یہ دوسری چیز جس پر پہلی موقوف ہے اس کو شرط کہتے ہیں۔ تعلیق صحیح ہونے کے ليے یہ شرط ہے کہ ''شرط'' فی الحال معدوم ہو(1) مگر عادۃًہو سکتی ہو لہٰذا اگر شرط معدوم نہ ہو مثلاً یہ کہے کہ اگر آسمان ہمارے اوپر ہو تو تجھ کو طلاق ہے یہ تعلیق نہیں بلکہ فوراً طلاق واقع ہو جائیگی اور اگر شرط عادۃًمحال ہو مثلاً یہ کہ اگر سوئی کے ناکے میں اونٹ چلا جائے تو تجھ کو طلاق ہے یہ کلام لغو (2)ہے اس سے کچھ نہ ہوگا۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ ''شرط'' متصلاً(3)بولی جائے اور یہ کہ سزا دینا مقصودنہ ہو مثلاً عورت نے شوہر کو کمینہ کہا شوہر نے کہا اگر میں کمینہ ہوں تو تجھ پر طلاق ہے تو طلاق ہوگئی اگرچہ کمینہ نہ ہو کہ ایسے کلام سے تعلیق مقصود نہیں ہوتی بلکہ عورت کو ایذا (4)دینا، اور یہ بھی ضروری ہے کہ وہ فعل ذکر کیا جائے جسے شرط ٹھہرایا، لہٰذا اگر یوں کہا تجھے طلاق ہے اگر، اور اس کے بعد کچھ نہ کہا تو یہ کلام لغو ہے طلاق نہ واقع ہوئی نہ ہوگی۔ تعلیق کے ليے شرط یہ ہے کہ عورت تعلیق کے وقت اُس کے نکاح میں ہو مثلاً اپنی منکوحہ سے یا جو عورت اُس کی عدّت میں ہے کہا اگر تو فلاں کام کرے یا فلاں کے گھر جائے تو تجھ پر طلاق ہے یا نکاح کی طرف اضافت ہو مثلاً کہا اگر میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اُس پر طلاق ہے یا اگر میں تجھ سے نکاح کروں تو تجھ پر طلاق ہے یا جس عورت سے نکاح کروں اُسے طلاق ہے اور کسی اجنبیہ سے کہا اگر تو فلاں کے گھر گئی تو تجھ پر طلاق، پھر اُس سے نکاح کیااور وہ عورت اُس کے یہاں گئی طلاق نہ ہوئی یا کہا جو عورت میرے ساتھ سوئے اُسے طلاق ہے پھر نکاح کیا اور ساتھ سوئی طلاق نہ ہوئی۔ یوہیں اگر والدین سے کہا اگر تم میرا نکاح کرو گے تو اُسے طلاق پھر والدین نے اس کے بے کہے نکاح کر دیا طلاق واقع نہ ہوگی۔ یوہیں اگر طلاق ثبوت ملک (5)یا زوال ملک (6)کے مقارن (7)ہو تو کلام لغو ہے طلاق نہ ہوگی، مثلاً تجھ پر طلاق ہے تیرے نکاح کے ساتھ یا میری یا تیری موت کے ساتھ۔ (8)(درمختار، ردالمحتار وغیرہما) 

    مسئلہ ۱: طلاق کسی شرط پر معلق کی تھی اور شرط پائی جانے سے پہلے تین طلاقیں دیدیں تو تعلیق باطل ہوگئی یعنی وہ عورت پھر اس کے نکاح میں آئے اور اب شرط پائی جائے تو طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر تعلیق کے بعد تین سے کم طلاقیں دیں تو تعلیق باطل نہ ہوئی لہٰذا اب اگرعورت اس کے نکاح میں آئے اور شرط پائی جائے تو جتنی طلاقیں معلّق کی تھیں سب واقع ہو جائیں گی یہ اُس صورت میں ہے کہ دوسرے شوہر کے بعد اس کے نکاح میں آئی۔ اور اگر دو ایک طلاق دیدی پھر بغیر دوسرے کے نکاح کے خود نکاح کرلیا تو اب تین میں جو باقی ہے واقع ہوگی اگرچہ بائن طلاق دی ہو یا رجعی کی عدّت ختم ہوگئی ہو کہ بعد عدّت
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔یعنی موجود نہ ہو۔    2۔۔۔۔۔۔بیکار،فضول۔        3۔۔۔۔۔۔یعنی ساتھ ہی۔        4۔۔۔۔۔۔تکلیف۔

5۔۔۔۔۔۔ملکیت کاثابت ہونا۔    6۔۔۔۔۔۔ملکیت کا ختم ہونا۔    7۔۔۔۔۔۔متصل،ملی ہوئی۔

8۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار'' و'' ردالمحتار''،کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب: فیما لوحلف لایحلف فعلق، ج۴، ص۵۷۸۔ ۵۸۶،وغیرہما.
Flag Counter