مسئلہ ۳۸: اجنبی شخص سے کہا کہ میری عورت کا امر تیرے ہاتھ ہے تو اُس کو طلاق دینے کا اختیار حاصل ہے اور وہی احکام ہیں جو خود عورت کے ہاتھ میں اختیار دینے کے ہیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: دوشخصوں کے ہاتھ میں دیا تو تنہا ایک کچھ نہیں کرسکتا اوراگر کہا میرے ہاتھ میں ہے اور تیرے اور مخاطب نے طلاق دے دی تو جب تک شوہر اُس طلاق کو جائز نہ کریگا نہ ہوگی اور اگر کہا اﷲ (عزوجل) کے ہاتھ میں ہے اور تیرے ہاتھ میں اور مخاطب نے طلاق دیدی تو ہوگئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: عورت کے اولیا (3) نے طلاق لینی چاہی شوہر عورت کے باپ سے یہ کہہ کر چلا گیا کہ تم جو چاہو کرو اور والدِ زوجہ نے طلاق دیدی تو اگر شوہر نے تفویض کے ارادہ سے نہ کہا ہو طلاق نہ ہوگی۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۴۱: عورت سے کہا اگر تیرے ہوتے ساتے (5) نکاح کروں تو اُسکا امر تیرے ہاتھ میں ہے پھر کسی فضولی (6) نے اس کا نکاح کردیا اور اس نے کوئی کام ایسا کیا جس سے وہ نکاح جائز ہوگیا مثلاً مہر بھیج دیا یا وطی کی۔ زبان سے کہہ کر جائز نہ کیا تو پہلی عورت کو اختیار نہیں کہ اُسے طلاق دیدے۔ اور اگر اس کے وکیل نے نکاح کردیا یا فضولی کے نکاح کو زبان سے جائز کیا یا کہا تھا کہ میرے نکاح میں اگرکوئی عورت آئے تو ایسا ہے تو ان سب صورتوں میں عورت کو اختیار ہے۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۴۲: اپنی دو۲ عورتوں سے کہا کہ تمھارا امر تمھارے ہاتھ ہے تو اگر دونوں اپنے کو طلاق دیں تو ہوگی، ورنہ نہیں۔ (8) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: اپنی عورت سے کہا کہ میری عورتوں کا امر تیرے ہاتھ میں ہے یا تو میری جس عورت کو چاہے طلاق دیدے تو خود اپنے کو وہ طلاق نہیں دے سکتی۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: فضولی نے کسی کی عورت سے کہا تیرا امر تیرے ہاتھ ہے عورت نے کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور