Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
143 - 282
یہ خبر شوہر کو پہنچی اُس نے جائز کر دیا تو طلاق واقع نہ ہوئی مگر جس مجلس میں عورت کو اجازتِ شوہر کا علم ہوا اُسے اختیار حاصل ہوگیا یعنی اب چاہے تو طلاق دے سکتی ہے۔ یوہیں اگر عورت نے خود ہی کہا میں نے اپنا امر اپنے ہاتھ میں کیا پھر کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا اور شوہر نے جائز کر دیا تو طلاق نہ ہوئی مگر اختیار طلاق حاصل ہوگیا۔ اور اگر عورت نے یہ کہا کہ میں نے اپنا امر اپنے ہاتھ میں کیا اور اپنے کو میں نے طلاق دی شوہر نے جائز کر دیا تو ایک طلاق رجعی ہوگئی اور عورت کو اختیار بھی حاصل ہوگيا یعنی اب اگر عورت اپنے نفس کو اختیار کرے تو دوسری بائن طلاق واقع ہوگی۔ عورت نے کہا میں نے اپنے کو بائن کردیا شوہر نے جائز کیا اور شوہر کی نیت طلاق کی ہے تو طلاق بائن ہوگئی۔ اور عورت نے طلاق دینا کہا تو اجازت شوہر کے وقت اگر شوہر کی نیت نہ بھی ہو طلاق ہوجائیگی اور تین کی نیت صحیح نہیں۔ اور عورت نے کہا میں نے اپنے کو تجھ پر حرام کردیا شوہر نے جائز کر دیا طلاق ہوگئی۔(1) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۴۵: شوہر سے کسی نے کہا فلاں شخص نے تیری عورت کو طلاق دیدی اُس نے جواب میں کہا اچھا کیا توطلاق ہوگئی اور اگر کہا بُرا کیا تو نہ ہوئی۔(2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴۶: اپنی عورت سے کہا جب تک تو میرے نکاح میں ہے اگر میں کسی عورت سے نکاح کروں تو اُس کا امر تیرے ہاتھ میں ہے پھر اِس عورت سے خلع کیا(3) یا طلاق بائن یا تین طلاقیں دیں اب دوسری عورت سے نکاح کیا تو پہلی عورت کو کچھ اختیار نہیں اور اگر یہ کہا تھا کہ کسی عورت سے نکاح کر وں تو اُس کا امر تیرے ہاتھ ہے تو خلع وغیرہ کے بعد بھی اس کو اختیار ہے۔(4) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۴۷: عورت سے کہا تو اپنے کو طلاق دیدے اور نیت کچھ نہ ہو یا ایک یا دو۲ کی نیت ہو اور عورت آزاد ہو تو عورت کے طلاق دینے سے ایک رجعی واقع ہوگی اور تین کی نیت کی ہو تو تین پڑیں گی اور عورت باندی ہو تو دو۲ کی نیت بھی صحیح ہے۔ اور اگر عورت نے جواب میں کہا کہ میں نے اپنے کو بائن کیا یا جُدا کیا یا میں حرام ہوں یا بَری ہوں جب بھی ایک رجعی واقع ہوگی۔ اور اگر کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو کچھ نہیں اگرچہ شوہر نے جائز کر دیا ہو۔(5) (درمختار) کسی اور سے کہا تو میری عورت کو رجعی طلاق دے اُس نے بائن دی جب بھی رجعی ہوگی اور اگر وکیل نے طلاق کا لفظ نہ کہا بلکہ کہا میں نے اُسے بائن کر
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۴. 

2۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۴. 

3۔۔۔۔۔۔یعنی مال کے بدلے نکاح سے آزادکیا۔

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، المرجع السابق، ص۳۹۶،۳۹۷.

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار'' ،کتاب الطلاق، فصل في المشیئۃ، ج۴، ص۵۶۳ ۔ ۵۶۵.
Flag Counter