تفویضیں جُدا جُدا ہیں، لہٰذا اگر آج ردکردیا تو پرسوں عورت کو اختیار رہے گا اوررات میں طلاق دیگی تو واقع نہ ہوگی اور ایک دن میں ایک ہی بار طلاق دے سکتی ہے اور اگر کہا آج اور کل تو رات داخل ہے اور آج رد کردیگی تو کل کے ليے بھی اختیار نہ رہا کہ یہ ایک تفویض ہے اور اگر یوں کہا آج تیرا امر تیرے ہاتھ ہے اور کل تیراامر تیرے ہاتھ ہے تو رات داخل نہیں اور جُدا جُدا دو تفویضیں ہیں اور اگر کہا تیراامر تیرے ہاتھ ہے آج اور کل اور پرسوں تو ایک تفویض ہے اور راتیں داخل ہیں اور جہاں دو تفویضیں ہیں، اگر آج اُس نے طلاق دے لی پھر کل آنے سے پہلے اُسی سے نکاح کر لیا تو کل پھر اُسے طلاق دینے کا اختیار حاصل ہے۔(1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۴: عورت نے یہ دعویٰ کیا کہ شوہر نے میراامر میرے ہاتھ میں دیا تو یہ دعویٰ نہ سُنا جائے کہ بیکار ہے۔ ہاں عورت نے اس امر کے سبب اپنے کو طلاق دے دی پھر طلاق ہونے اور مہر لینے کے ليے دعویٰ کیا تو اب سُنا جائیگا۔(2) (عالمگيری)
مسئلہ ۳۵: اگر یہ کہاکہ تیرا امر تیرے ہاتھ ہے جس دن فلاں آئے تو صرف دن کے ليے ہے اگر رات میں آیا تو طلاق نہیں دے سکتی اور اگر وہ دن میں آیا مگر عورت کو اُس کے آنے کا علم نہ ہوا یہاں تک کہ آفتاب ڈوب گیاتو اب اختیار نہ رہا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: اگر کوئی وقت معین نہ کیا تو مجلس بدلنے سے اختیار جاتا رہے گا جیسا اوپر مذکور ہوا اور اگر وقت معین کردیا ہو مثلاً آج یا کل یا اس مہینے یا اس سال میں تو اُس پورے وقت میں اختیار حاصل ہے۔
مسئلہ ۳۷: کاتب سے کہا تو لکھ دے اگر میں اپنی عورت کی بغیر اجازت سفر کو جاؤں تو وہ جب چاہے اپنے کو ایک طلاق دے لے، عورت نے کہا میں ایک طلاق نہیں چاہتی تین طلاقیں لکھوا مگر شوہر نے انکار کردیا اور لکھنے کی نوبت نہ آئی تو عورت کو ایک طلاق کا اختیار حاصل رہا۔(4) (عالمگيری)