Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
140 - 282
    مسئلہ ۲۸: عورت کے ليے یہ لفظ کہا مگر اُسے اس کا علم نہ ہوا اور طلاق دے لی واقع نہ ہوئی۔ (1)(خانیہ) 

    مسئلہ ۲۹: شوہر نے کہا تیرا امر تیرے ہاتھ ہے اس کے جواب میں عورت نے کہا میراامر میرے ہاتھ ہے تو یہ جواب نہ ہوا یعنی طلاق نہ ہوئی بلکہ جواب میں وہ لفظ ہونا چاہيے جس کی نسبت عورت کی طرف اگر زوج (2)کرتا تو طلاق ہوتی۔ (3) (درمختار) مثلاً کہے میں نے اپنے نفس کو حرام کیا، بائن کیا، طلاق دی، وغیرہا۔ یوہیں اگر جواب میں کہا میں نے اپنے نفس کو اختیار کیا یاکہا قبول کیا یا عورت کے باپ نے قبول کیا جب بھی طلاق ہوگئی۔ یوہیں اگر جواب میں کہا تو مجھ پر حرام ہے یا میں تجھ پر حرام ہوئی یا تو مجھ سے جدا ہے یا میں تجھ سے جدا ہوں یا کہا میں حرام ہوں یا میں جدا ہوں تو ان سب صورتوں میں طلاق ہے اور اگر کہا تو حرام ہے اور یہ نہ کہا کہ مجھ پر یا تو جدا ہے اور یہ نہ کہا کہ مجھ سے تو باطل ہے طلاق نہ ہوئی۔(4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۰: اس کے جواب میں اگرچہ رجعی کا لفظ ہو طلاق بائن پڑے گی ہاں اگر شوہر نے کہا تیرا امر تیرے ہاتھ ہے طلاق دینے میں تو رجعی ہوگی یا شوہر نے کہا تین طلاق کا امر تیرے ہاتھ ہے اور عورت نے ایک یا دو دی تو رجعی ہے۔(5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۱: کہا تیرا امر تیری ہتھیلی میں ہے یا دہنے ہاتھ یا بائیں ہاتھ میں یا تیرا امر تیرے ہاتھ میں کر دیا یا تیرے ہاتھ کوسپُرد کردیا یا تیرے مونھ میں ہے یا زبان میں، جب بھی وہی حکم ہے۔(6) (عالمگيری) 

    مسئلہ ۳۲: اگر ان الفاظ کو بہ نیت طلاق نہ کہاتوکچھ نہیں مگر حالت غضب یا مذاکرہ طلاق (7)میں کہا تونیت نہیں دیکھی جائے گی بلکہ حکم طلاق دیدیں گے۔ اور اگر مرد کو حالت غضب یا مذاکرہ طلاق سے انکار ہے تو عورت سے گواہ ليے جائیں گواہ نہ پیش کرسکے تو قسم لیکر شوہر کا قول مانا جائے۔ اور نیت طلاق پر اگر عورت گواہ پیش کرے تو مقبول نہیں ہاں اگر مرد نے نیت کا اقرار کیا ہواور اقرار کے گواہ عورت پیش کرے تو مقبول ہیں۔(8) (عالمگیری) 

    مسئلہ۳۳: شوہر نے کہا تیرا امر تیرے ہاتھ ہے، آج اور پر سوں تو دونوں راتیں درمیان کی داخل نہیں اور یہ دو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب الطلاق، فصل فی الطلاق الذی یکون من الوکیل...الخ، ج۲، ص۲۵۱. 

2۔۔۔۔۔۔ شوہر۔

3۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الامربالید، ج۴، ص۵۵۴۔۵۵۶. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۰،۳۹۱. 

5۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق . 

6۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۱. 

7۔۔۔۔۔۔یعنی طلاق کے متعلق گفتگو۔

8۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب الطلاق، الباب الثالث في تفویض الطلاق، الفصل الثاني ، ج۱، ص۳۹۱.
Flag Counter