مسئلہ ۲۴: کہا تجھے اس سال یا اس مہینے یا آج دن میں اختیار ہے تو جب تک وقت باقی ہے اختیار ہے اگرچہ مجلس بدل گئی ہو۔ اور اگر ایک دن کہا تو چوبیس گھنٹے اور ایک ماہ کہا تو تیس دن تک اختیار ہے اور چاند جس وقت دکھائی دیا اُس وقت ایک مہینے کا اختیار دیا تو تیس دن ضرور نہیں بلکہ دوسرے ہلال (1) تک ہے۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۲۵: نکاح سے پیشتر (3) تفویضِ طلاق کی مثلاً عورت سے کہا اگر میں دوسری عورت سے نکاح کروں توتجھے اپنے نفس کو طلاق دینے کا اختیار ہے تو یہ تفویض نہ ہوئی کہ اضافت ملک کی طرف نہیں۔ یوہیں اگر ایجاب و قبول میں شرط کی اور ایجاب شوہر کی طرف سے ہو مثلاًکہا میں تجھے اس شرط پر نکاح میں لایا عورت نے کہا میں نے قبول کیا جب بھی تفویض نہ ہوئی۔ اور اگر عقد میں شرط کی اور ایجاب عورت یا اُس کے وکیل نے کیا مثلاً میں نے اپنے نفس کو یا اپنی فلاں موکلہ(4) کو اس شرط پر تیرے نکاح میں دیا مرد نے کہا میں نے اس شرط پر قبول کیا تو تفویض طلاق ہوگئی شرط پائی جائے تو عورت کو جس مجلس میں علم ہو ا اپنے کو طلاق دینے کا اختیار ہے۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: مرد نے عورت سے کہا تیرا امر (6) تیرے ہاتھ ہے تو اس میں بھی وہی شرائط و احکام ہیں جو اختیار کے ہیں کہ نیت طلاق سے کہا ہو اور نفس کاذکر ہو اور جس مجلس میں کہا یا جس مجلس میں علم ہوا اُسی میں عورت نے طلاق دی ہو تو واقع ہو جائے گی اور شوہر رجوع نہیں کرسکتاصرف ایک بات میں فرق ہے وہاں تین کی نیت صحیح نہیں اور اِس میں اگر تین طلاق کی نیت کی تو تین واقع ہونگی اگرچہ عورت نے اپنے کو ایک طلاق دی یا کہا میں نے اپنے نفس کو قبول کیا یا اپنے امر کو اختیار کیا یا تو مجھ پر حرام ہے یا مجھ سے جُدا ہے یا میں تجھ سے جُدا ہوں یا مجھے طلاق ہے۔ اوراگر مرد نے دو ۲ کی نیت کی یا ایک کی یا نیت میں کوئی عدد نہ ہو تو ایک ہوگی۔(7) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۷: زوجہ نابالغہ ہے اُس سے یہ کہا کہ تیر اامر تیرے ہاتھ ہے اُس نے اپنے کو طلاق دیدی ہوگئی اور اگر عورت کے باپ سے کہا کہ اُس کا امر تیرے ہاتھ ہے اس نے کہا میں نے قبول کیا یا کوئی اور لفظ طلاق کا کہا طلاق ہوگئی۔ (8)(ردالمحتار)