کے بعد دوسری شرط پر معلق کی دوسری کے پائے جانے پر طلاق نہ ہوگی۔ (1)(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۷: قسم کھائی کہ عورت کے پاس نہ جائے گاپھر چار مہینے گزر نے سے پہلے بہ نیت طلاق اُسے بائن کہا یا اُس سے خلع کیا تو طلاق واقع ہو گئی پھر قسم کھانے سے چار مہینے تک اُسکے پاس نہ گیا تو یہ دوسری طلاق ہوئی اور اگر پہلے خلع کیا پھر کہا تو بائن ہے تو واقع نہ ہوگی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۸: یہ کہا کہ میری ہر عورت کو طلاق ہے یا اگر یہ کام کروں تو میری عورت کو طلاق ہے تو جس عورت سے خلع کیا ہے یا جو طلاق بائن کی عدّت میں ہے ان لفظوں سے اُسے طلاق نہ ہوگی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۹: جو فرقت (4) ہمیشہ کے ليے ہو یعنی جس کی و جہ سے اُس سے کبھی نکاح نہ ہو سکتا ہو جیسے حرمتِ مصاہرت (5) و حرمتِ رضاع (6) تو اس عورت پر عدّت میں بھی طلاق نہیں ہو سکتی۔ یوہیں اگر اس کی عورت کنیز تھی اُس کو خرید لیا تو اب اُسے طلاق نہیں دے سکتا کہ وہ نکاح سے بالکل نکل گئی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: زن و شوہر (8)میں سے کوئی معاذاﷲ مرتد ہو ا مگر دارالاسلام میں رہا تو طلاق ہو سکتی ہے اور اگر دارالحرب کو چلا گیا تو اب طلاق نہیں ہو سکتی اور مرد مرتد ہو کر دارالحرب کو چلا گیا تھا پھر مسلمان ہو کر واپس آیا اور عورت ابھی عدّت میں ہے تو طلاق دے سکتا ہے اور عورت اگرچہ واپس آجائے طلاق نہیں ہو سکتی۔(9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: خیار بلوغ یعنی بالغ ہوتے ہی نکاح سے ناراضی ظاہر کی اور خیار عتق کہ آزاد ہو کر تفریق چاہی ان دونوں کے بعد طلاق نہیں ہو سکتی۔ (10)(درمختار)