Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
133 - 282
طلاق سپرد کرنے کا بیان
    اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
    (یٰاَیُّہَا النَّبِیُّ  قُلۡ  لِّاَزْوَاجِکَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدْنَ  الْحَیٰوۃَ  الدُّنْیَا وَ زِیۡنَتَہَا فَتَعَالَیۡنَ اُمَتِّعْکُنَّ وَ اُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِیۡلًا ﴿۲۸﴾ وَ اِنۡ کُنۡـتُنَّ تُرِدْنَ اللہَ  وَ رَسُوۡلَہٗ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ  فَاِنَّ اللہَ  اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنۡکُنَّ  اَجْرًا عَظِیۡمًا ﴿۲۹﴾ 

)(1)
    اے نبی! اپنی بی بیوں سے فرما دو کہ اگر تُم دنیا کی زندگی اور اُس کی زینت چاہتی ہو تو آ ؤ میں تمھیں مال دوں اور تم کو اچھی طرح چھوڑدوں اور اگر اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اﷲ (عزوجل) نے تم میں نیکی والوں کے لیے بڑا اجر طیار کر رکھا ہے۔

    حدیث ۱: صحیح مسلم شریف میں حضرت جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہ جب یہ آیت نازل ہوئی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے فرمایا: ''اے عائشہ میں تجھ پرایک بات پیش کرتا ہوں، اُس میں جلدی نہ کرنا جب تک اپنے والدین سے مشورہ نہ کرلینا جواب نہ دینا (اور حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو معلوم تھا کہ ان کے والدین جدائی کے لیے مشورہ نہ دینگے)۔ اُم المومنین نے عرض کی، یا رسول اﷲ! (عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) وہ کیا بات ہے؟ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اس آیت کی تلاوت کی۔ ام المومنین نے عرض کی، یا رسول اللہ! (عزوجل و صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم) حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے بارے

میں مجھے والدین سے مشورہ کی کیا حاجت ہے، بلکہ میں اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) اور آخرت کے گھر کو اختیار کرتی ہوں اور میں یہ چاہتی ہوں کہ ازواج مطہرات میں سے کسی کو میرے جواب کی حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) خبر نہ دیں۔ ارشاد فرمایا: ''جو مجھ سے پوچھے گی کہ عائشہ نے کیا جواب دیا ہے، میں اُ سے خبر کردونگا اﷲ (عزوجل) نے مجھے مشقّت میں ڈالنے والا اور مشقّت میں پڑنے والا بنا کر نہیں بھیجا ہے، اُس نے مجھے معلم اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے۔'' (2)

    حدیث ۲: صحیح بخاری شریف میں عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، فرماتی ہیں نبی صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا ہم نے اﷲ (عزوجل) و رسول (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اختیار کیا اور اس کو کچھ (یعنی طلاق) نہیں شمار کیا۔ اُسی میں ہے، مسروق کہتے ہیں مجھے کچھ پرواہ نہیں کہ اُس کو ایک دفعہ اختیار دوں یا سو دفعہ جب کہ وہ مجھے اختیار کرے یعنی اس صورت میں طلاق نہیں ہوتی۔ (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔پ۲۱، الأحزاب:۲۸،۲۹.

2۔۔۔۔۔۔ ''صحیح مسلم''، کتاب الطلاق، باب بیان ان تخییرہ امراتہ... إلخ، الحدیث: ۱۴۷۸، ص۷۸۳. 

3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''، کتاب الطلاق، باب من خیّرنساء ہ... إلخ، الحدیث: ۵۲۶۲، ۵۲۶۳، ج۳،ص۴۸۲.
Flag Counter