مسئلہ ۹: دو۲ عورتیں ہیں اور دونوں غیر موطؤہ (1) اس نے کہا میری عورت کو طلاق میری عورت کو طلاق تو دونوں مطلقہ ہوگئيں اگرچہ وہ کہے کہ ایک ہی عورت کو میں نے دونوں بار کہا تھا اور اگر دونوں مدخولہ ہوں اور کہتا ہے کہ دونوں بار ایک ہی کی نسبت کہا تھا تواُسکا قول مان لیا جائیگا۔ یوہیں اگر ایک مدخولہ ہو دوسری غیر مدخولہ اور مدخولہ کی نسبت دونوں مرتبہ کہا تو اُسی کو دو ۲ طلاقیں ہو نگی اور غیر مدخولہ کی نسبت بیان کرے تو ہر ایک کو ایک ایک۔(2) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: کہا میری عورت کو طلاق ہے اور اُسکا نا م نہ لیا اور اُس کی ایک ہی عورت ہے جس کو لوگ جانتے ہیں تو اسی پر طلاق پڑے گی اگرچہ کہتا ہو کہ میری ایک عورت دوسری بھی ہے میں نے اُسے مراد لیا ہاں اگر گواہوں سے دوسری عورت ہونا ثابت کردے تو اُسکا قول مان لیں گے اور دو ۲عورتیں ہوں اور دونوں کو لوگ جانتے ہوں تو اسے اختیار ہے جسے چاہے مراد لے یا معین کرے۔ یوہیں اگر دونوں غیر معروف ہوں تو اختیار ہے۔ (3)(خانیہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: مدخولہ کو کہا تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے یا میں نے تجھے طلاق دی میں نے تجھے طلاق دی تو دو۲ طلاق کا حکم دیا جائے گا اگرچہ کہتا ہو کہ دوسرے لفظ سے تاکید کی نیت تھی طلاق دینا مقصود نہ تھا ہاں دیانتہً اُس کا قول مان لیا جائیگا۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: اپنی عورت کو کہا اس کُتیا کو طلاق یا انکھیاری (5)ہے اُس کو کہا اس اندھی کو طلاق تو طلاق واقع ہو جائے گی اور اگر کسی دوسری عورت کو دیکھا اور سمجھا کہ میری عورت ہے اور اپنی عورت کا نام لیکر کہا اے فلانی تجھے طلاق ہے بعد کو معلوم ہواکہ یہ اُس کی عورت نہ تھی تو طلاق ہو گئی مگر جبکہ اُسکی طرف اشارہ کرکے کہا تو نہ ہوگی۔(6) (خانیہ وغیرہا)
مسئلہ۱۳: اگر کہا دُنیا کی تمام عورتوں کو طلاق تو اس کی عورت کو طلاق نہ ہوئی اور اگر کہا کہ اس محلہ یا اس گھر کی عورتوں کو تو ہوگئی۔ (7)(درمختار)