ہو تی۔(1) (خانیہ عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۰: (۴۱) تجھے مسلمانوں کے چاروں مذہب یا (۴۲) مسلمانوں کے تمام مذہب پر طلاق یا (۴۳) تجھے یہودونصاریٰ کے مذہب پر طلاق اس سے ایک طلاق رجعی ہوگی۔ یوہیں اگر کہا (۴۴) جاتجھے طلاق ہے سوئروں یا یہودیوں کو حلال اور مجھ پر حرام ہو تو رجعی ہوگی یعنی جبکہ اس لفظ سے (کہ مجھ پر حرام ہو) طلاق کی نیت نہ کی ہو ورنہ دو ۲ بائن واقع ہونگی۔ (2)(خیریہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: (۴۵) تو مطلقہ اور بائنہ یا (۴۶) مطلقہ پھر بائنہ ہے اس سے ایک رجعی ہوگی اور اگر لفظ بائنہ سے جُدا طلاق کی نیت کی تو دو ۲ بائن اور تین کی تو تین۔ (3)(درمختار ،ردالمحتار)
مسئلہ ۱۲: عورت کے بچہ کو دیکھ کر کہا (۴۷) اے مُطلقہ کے بچے یا (۴۸) اے مُطلقہ کے جنے تو طلاق رجعی ہوئی (4)(عالمگيری) ہاں اگر یہ نیت ہو کہ وہ پہلے شوہرکی مطلقہ ہے تو دیانتہ ً مان لیا جائیگا جبکہ پہلے شوہر نے طلاق دی ہو۔
مسئلہ ۱۳: عور ت کی نسبت کہا (۴۹) اُسے اُس کی طلاق کی خبر دے یا (۵۰) طلاق کی خوشخبری سُنا دے یا (۵۱) اُس کی طلاق کی خبر اُس کے پاس لے جا یا (۵۲) اُسے لکھ بھیج یا (۵۳) اُس سے کہہ کہ وہ مطلقہ ہے یا (۵۴) اُس کے ليے اُس کی طلاق کی سند یا یادداشت لکھدے تو طلاق ابھی پڑگئی اگرچہ نہ اُس نے اُس سے کہا نہ لکھا اور اگر یوں کہا کہ(۵۵) اُس سے کہہ کہ تو مطلقہ ہے یا (۵۶) اُسے طلاق دے آ تو جب جاکر کہے گا طلاق ہوگی ورنہ نہیں۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۱۴: (۵۷) تو فلانی سے زیادہ مُطلقہ ہے طلاق پڑگئی اگرچہ وہ فلانی مُطلقہ نہ بھی ہو۔(6) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۱۵: (۵۸) اے مطلقہ (بسکون طا) (۵۹) میں نے تیری طلاق چھوڑدی (۶۰) میں نے تیری طلاق روانہ کردی (۶۱) میں نے تیری طلاق کا راستہ چھوڑدیا (۶۲) میں نے تیری طلاق تجھے ہبہ کردی (۶۳) قرض دی