نہیں۔ ( 1)(خانیہ) کسی نے کہا تیری عورت پر طلاق نہیں کہا کیوں نہیں یا کہا کیوں تو طلاق ہو گئی اور اگر کہا نہیں یا ہاں تو نہیں۔(2) (فتاویٰ رضویہ)
مسئلہ ۶: عورت کو طلاق نہیں دی ہے مگر لوگوں سے کہتا ہے میں طلاق دے آیا تو قضاءً ہوجائے گی اور دیانۃً نہیں اور اگر ایک طلاق دی ہے اور لوگوں سے کہتا ہے تین دی ہیں تو دیانتہً ایک ہوگی قضاءً تین، اگرچہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا۔(3) (فتاویٰ خیریہ)
مسئلہ ۷: عورت سے کہا اے مطلّقہ، (۲۴) اے طلاق دی گئی، (۲۵) اے طلاقن، (۲۶) اے طلاق شدہ، (۲۷) اے طلاق یافتہ، (۲۸) اے طلاق کردہ۔ طلاق ہوگئی اگرچہ کہے میرا مقصود گالی دینا تھا طلاق دینا نہ تھا۔ اور اگر یہ کہے کہ میرا مقصود یہ تھا کہ وہ پہلے شوہر کی مطلقہ ہے اور حقیقت میں وہ ایسی ہی ہے یعنی شوہر اول کی مطلقہ ہے تو دیانتہً اس کا قول مان لیا جائیگا اور اگر وہ عورت پہلے کسی کی منکوحہ تھی ہی نہیں یا تھی مگر اُس نے طلاق نہ دی تھی بلکہ مرگیا ہو تو یہ تا ویل نہیں مانی جائیگی۔ یوہیں اگر کہا (۲۹) تیرے شوہر نے تجھے طلاق دی تو بھی وہی حکم ہے۔ (4)(ردالمحتار عالمگیری)
مسئلہ ۸: عورت سے کہا تجھے طلاق دیتا ہوں یا کہا (۳۰) تو مطلقہ ہو جا تو طلاق ہو گئی(5) (ردالمحتار) مگر یہ لفظ کہ طلاق دیتا ہوں یا چھوڑتا ہوں اس کے یہ معنے ليے کہ طلاق دینا چاہتا ہوں یا چھوڑ نا چاہتا ہوں تو دیانتہً نہ ہوگی قضاءً ہو جائیگی۔ اور اگر یہ لفظ کہا کہ چھوڑے دیتا ہوں تو طلاق نہ ہوئی کہ یہ لفظ قصد وارادہ کے ليے ہے۔
مسئلہ ۹: (۳۱) تجھ پر طلاق (۳۲) تجھے طلاق (۳۳) طلاق ہو جا (۳۴) تو طلاق ہے (۳۵) تو طلاق ہو گئی (۳۶) طلاق لے ، باہر جاتی تھی کہا (۳۷) طلاق لے جا (۳۸) اپنی طلاق اوڑھ اور روانہ ہو(۳۹) میں نے تیری طلاق تیرے آنچل میں باندھ دی (۴۰) جا تجھ پر طلاق۔ ان سب میں ایک طلاق رجعی ہوگی اور اگر فقط جا، بہ نیت طلاق کہتا تو بائن