Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
116 - 282
صریح کا بیان
    مسئلہ ۱: لفظ صریح مثلاً( ۱ )میں نے تجھے طلاق دی،( ۲) تجھے طلاق ہے، (۳) تو مطلقہ ہے، (۴) تو طالق ہے، (۵) میں تجھے طلاق دیتا ہوں، (۶) اے مطلقہ۔ ان سب الفاظ کا حکم یہ ہے کہ ایک طلاق رجعی واقع ہوگی اگرچہ کچھ نیت نہ کی ہو یا بائن کی نیت کی یا ایک سے زیادہ کی نیت ہو یا کہے میں نہیں جانتا تھا کہ طلاق کیا چیز ہے مگر اس صورت میں کہ وہ طلاق کو نہ جانتا تھا دیا نتہً واقع نہ ہوگی۔(1) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۲: (۷) طلاغ،(۸)تلاغ،(۹)طلاک،(۱۰)تلاک،(۱۱)تلاکھ،(۱۲)تلّاکھ،(۱۳)تلاخ، (۱۴) تلاح، (۱۵) تلاق، (۱۶) طِلاق۔ بلکہ توتلے کی زبان سے، (۱۷) تلات۔ یہ سب صریح کے الفاظ ہیں، ان سب سے ایک طلاق رجعی ہوگی اگرچہ نیت نہ ہو یا نیت کچھ اور ہو۔ (۱۸) ط ل ا ق، (۱۹) طا لام الف قاف کہا اور نیت طلاق ہو تو ایک رجعی ہوگی۔(2) (درمختار وغیرہ) 

    مسئلہ ۳: اردو میں یہ لفظ کہ (۲۰) میں نے تجھے چھوڑا، صریح ہے اس سے ایک رجعی ہوگی، کچھ نیت ہو یا نہ ہو۔ یوہیں یہ لفظ کہ (۲۱) میں نے فارغ خطی یا (۲۲) فار خطی یا (۲۳) فار کھتی دی، صریح ہے۔ ( 3)

    مسئلہ ۴: لفظ طلاق غلط طور پر ادا کرنے میں عالم و جاہل برابر ہیں۔ بہر حال طلاق ہو جائے گی اگرچہ وہ کہے میں نے دھمکانے کے ليے غلط طور پر ادا کیا طلاق مقصود نہ تھی ورنہ صحیح طور پر بولتا۔ ہاں اگر لوگوں سے پہلے کہہ دیا تھا کہ میں دھمکانے کے ليے غلط لفظ بولوں گا طلاق مقصود نہ ہوگی تو اب اس کا کہا مان لیا جائیگا۔( 4) (درمختار) 

    مسئلہ ۵: کسی نے پوچھا تو نے اپنی عورت کو طلاق دے دی اس نے کہا ہاں یا کیوں نہیں تو طلاق ہو گئی اگرچہ طلاق دینے کی نیت سے نہ کہا ہو۔( 5) (درمختار) مگر جبکہ ایسی سخت آواز اورایسے لہجہ سے کہا جس سے انکار سمجھا جاتا ہو تو
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴، ص۴۴۳ ۔ ۴۴۸،وغیرہ.

2۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب الطلاق، باب الصریح، ج۴، ص۴۴۴۔۴۴۸، وغیرہ.

3 ۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الرضویۃ''،ج۱۲،ص۵۵۹۔۵۶۰،وغیرہ.

4۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''، کتاب الطلاق، باب الصریح،ج۴، ص۴۴۶. 

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب الطلاق،باب الصریح،ج۴،ص۴۴۶.
Flag Counter