اگر عورت کو حیض نہ آتا ہو تو لکھ دے جب چاند ہو جائے تجھے طلاق پھر دوسرے مہینے میں طلاق پھر تیسرے مہینے میں طلاق یا وہی لفظ لکھ دے کہ سنت کے موافق تین طلاقیں۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: شوہر نے عورت کو خط لکھا اُس میں ضرورت کی جو باتیں لکھنی تھیں لکھیں آخر میں یہ لکھ دیا کہ جب میر ا یہ خط تجھے پہنچے تجھے طلاق پھر یہ طلاق کا جملہ مٹا کر خط بھیج دیا تو عورت کو خط پہنچتے ہی طلاق ہو گئی اور اگر خط کا تمام مضمون مٹا دیا اور طلاق کا جملہ باقی رکھا اور بھیج دیا تو طلاق نہ ہوئی اور اگر پہلے یہ لکھا کہ جب میرا یہ خط پہنچے تجھے طلاق اور اُس کے بعد اور مطلب کی باتیں لکھیں تو حکم بالعکس ہے یعنی الفاظ طلاق مٹا ديے تو طلاق نہ ہوئی اور باقی رکھے تو ہو گئی۔(2) (عالمگیری )
مسئلہ ۲۳: خط میں طلاق لکھی اور اُس کے بعد متصلاً (3)انشاء اﷲ تعالیٰ لکھا تو طلاق نہ ہوئی اور اگر فصل کے ساتھ لکھا(4) تو ہوگئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: تحریر سے طلاق کے ثبوت میں یہ ضرور ہے کہ شوہر اقرار کرے کہ میں نے لکھی یا لکھوائی یا عورت اس پر گواہ پیش کرے محض اُس کے خط سے مشابہ ہونا یا اُس کے سے دستخط ہونا یا اُس کی سی مُہرہونا کافی نہیں۔ ہاں اگر عورت کو اطمینان اور غالب گمان ہے کہ یہ تحریر اُسی کی ہے تو اس پر عمل کرنے کی عورت کو اجازت ہے مگر جب شوہر انکار کرے تو بغیر شہادت چارہ نہیں۔ (6)(خانیہ وغیرہا)
مسئلہ ۲۵: کسی نے شوہر کو طلاق نامہ لکھنے پر مجبور کیا اُس نے لکھ دیا، مگر نہ دل میں ارادہ ہے، نہ زبان سے طلاق کا لفظ کہا تو طلاق نہ ہوگی۔ مجبوری سے مراد شرعی مجبوری ہے محض کسی کے اصرار کرنے پر لکھ دینا یا بڑا ہے اُس کی بات کیسے ٹالی جائے، یہ مجبوری نہیں۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: طلاق دو۲ قسم ہے صریح و کنایہ۔ صریح وہ جس سے طلاق مراد ہونا ظاہر ہو، اکثر طلاق میں اس کا استعمال ہو، اگرچہ وہ کسی زبان کا لفظ ہو۔(8) (جوہرہ وغیرہا)