طلاق نہ ہوگی اور اگر ایسی چیز پر لکھے کہ حروف ممتاز ہوتے ہوں مثلاً کاغذ یا تختہ وغیرہ پر اور طلاق کی نیت سے لکھے تو ہو جائے گی اور اگرلکھ کر بھیجا یعنی اُس طرح لکھا جس طرح خطوط لکھے جاتے ہیں کہ معمولی القاب و آداب کے بعد اپنا مطلب لکھتے ہیں جب بھی ہو گئی بلکہ اگر نہ بھی بھیجے جب بھی اس صورت میں ہو جائے گی۔ اور یہ طلاق لکھتے وقت پڑے گی اور اُسی وقت سے عدّت شمار ہوگی۔ اور اگر یوں لکھا کہ میر ا یہ خط جب تجھے پہنچے تجھے طلاق ہے تو عورت کو جب تحریر پہنچے گی اُس وقت طلاق ہوگی عورت چاہے پڑھے یا نہ پڑھے اور فرض کیجئے کہ عورت کو تحریر پہنچی ہی نہیں مثلاً اُس نے نہ بھیجی یا راستہ میں گُم ہو گئی تو طلاق نہ ہوگی اور اگر یہ تحریر عورت کے باپ کو ملی اُس نے چاک کردی (1) لڑکی کو نہ دی تو اگر لڑکی کے تمام کاموں میں یہ تصرف کرتا ہے اور وہ تحریر اُس شہر میں اُسکو ملی جہاں لڑکی رہتی ہے تو طلاق ہو گئی ورنہ نہیں مگر جب کہ تحریر آنے کی لڑکی کو خبر دی اوروہ پھٹی ہوئی تحریر بھی اُسے دی اور وہ پڑھنے میں آتی ہے تو واقع ہو جائے گی۔(2) (درمختار ، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۱۸: کسی پرچہ پر طلاق لکھی اور کہتا ہے کہ میں نے مشق کے طور پر لکھی ہے تو قضاءً اس کا قول معتبر نہیں۔(3) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: دو پرچوں پر یہ لکھا کہ جب میری یہ تحریر تجھے پہنچے تجھے طلاق ہے اور عورت کو دونوں پرچے پہنچے تو قاضی دو۲ طلاقوں کا حکم دے گا۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۰: دوسرے سے طلاق لکھواکر بھیجی تو طلاق ہو جائے گی۔ لکھنے والے سے کہا میری عورت کو طلاق لکھ دے تو یہ اقرارطلاق ہے یعنی طلاق ہو جائے گی اگرچہ وہ نہ لکھے۔(5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۲۱: عورت کو بذریعہ تحریر طلاق سنت دینا چاہتا ہے تو اگر ایک طلاق دینی ہے۔ یوں لکھے کہ جب میری یہ تحریر تجھے پہنچے اس کے بعد حیض سے پاک ہونے پر تجھے طلاق ہے۔ اور تین دینی ہوں تو یوں لکھے میری تحریر پہنچنے کے بعد جب تو حیض سے پاک ہو تجھے طلاق پھر جب حیض سے پاک ہو تو طلاق پھر جب حیض سے پاک ہو تو طلاق یا یوں لکھ دے میری تحریر پہنچنے پر تجھے سنت کے موافق تین طلاقیں تو یہ بھی اُسی ترتیب سے واقع ہوں گی یعنی ہر حیض سے پاک ہونے پر ایک ایک طلاق پڑے گی اور