یعنی جب کہ مسلمان کے پاس مقدمہ پیش ہو تو طلاق کا حکم دے گا۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۱۲: مجنون نے ہوش کے زمانہ میں کسی شرط پر طلاق معلق کی تھی اور وہ شرط زمانہ جنون میں پائی گئی تو طلاق ہو گئی۔ مثلاً یہ کہا تھا کہ اگر میں اس گھر میں جاؤں تو تجھے طلاق ہے اور اب جنون کی حالت میں اُس گھر میں گیا تو طلاق ہو گئی ہاں اگر ہوش کے زمانہ میں یہ کہا تھا کہ میں مجنون ہو جاؤں تو تجھے طلاق ہے تو مجنون ہونے سے طلاق نہ ہو گی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۱۳: مجنون نا مرد ہے یا اُس کا عضو تناسل کٹا ہو ا ہے یا عورت مسلمان ہو گئی اور مجنون کے والدین اسلام سے منکر ہیں تو ان صورتوں میں قاضی تفریق (3)کردے گا اور یہ تفریق طلاق ہو گی۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: سر سام و بر سام (5)یا کسی اور بیماری میں جس میں عقل جاتی رہی یا غشی کی حالت میں یا سوتے میں طلاق دے دی تو واقع نہ ہوگی۔ یوہیں اگر غصہ اس حد کا ہو کہ عقل جاتی رہے تو واقع نہ ہوگی۔(6) (درمختار ، ردالمحتار) آج کل اکثر لوگ طلاق دے بیٹھتے ہیں بعد کو افسوس کرتے اور طرح طرح کے حیلہ سے یہ فتویٰ لیا چاہتے ہیں کہ طلاق واقع نہ ہو۔ ایک عذر اکثر یہ بھی ہوتا ہے کہ غصہ میں طلاق دی تھی۔ مفتی کو چاہیے یہ امر ملحوظ رکھے کہ مطلقاً غصہ کا اعتبار نہیں۔ معمولی غصہ میں طلاق ہو جاتی ہے۔ وہ صورت کہ عقل غصہ سے جاتی رہے بہت نادر ہے، لہٰذا جب تک اس کا ثبوت نہ ہو محض سائل کے کہہ دینے پر اعتماد نہ کرے۔
مسئلہ ۱۵: عددطلاق میں عورت کا لحاظ کیا جائے گا یعنی عورت آزاد ہو تو تین طلاقیں ہو سکتی ہیں اگرچہ اُس کا شوہر غلام ہو اور باندی ہو تو اُسے دو ہی طلاقیں دی جاسکتی ہیں اگرچہ شوہر آزاد ہو۔(7) (عامہ کتب)
مسئلہ ۱۶: نا بالغ کی عورت مسلمان ہو گئی اور شوہر پر قاضی نے اسلام پیش کیا۔ اگر وہ سمجھ وال (8)ہے اور اسلام سے انکار کرے تو طلاق ہو گئی۔ (9)(ردالمحتار)