نہیں نا بالغہ ہو یا مجنونہ ، بہر حال طلاق واقع ہوگی۔(1)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۶: کسی نے مجبور کرکے اسے نشہ پلادیا یا حالت اضطرار میں پیا (مثلاً پیاس سے مررہا تھا اور پانی نہ تھا) اور نشہ میں طلاق دے دی تو صحیح یہ ہے کہ واقع نہ ہو گی۔( 2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: یہ شرط نہیں کہ مرد آزاد ہو غلام بھی اپنی زوجہ کو طلاق دے سکتا ہے اور مولیٰ اُس کی زوجہ کو طلاق نہیں دے سکتا۔ اور یہ بھی شرط نہیں کہ خوشی سے طلاق دی جائے بلکہ اکراہ شرعی (3)کی صورت میں بھی طلاق واقع ہو جائے گی۔(4) (جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۸: الفاظ طلاق بطور ہزل کہے یعنی اُن سے دوسرے معنی کا ارادہ کیا جو نہیں بن سکتے جب بھی طلاق ہو گئی۔ یوہیں خفیف العقل (5)کی طلاق بھی واقع ہے اور بوہرا مجنون کے حکم میں ہے۔ (6)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: گونگے نے اشارہ سے طلاق دی ہوگئی جبکہ لکھنا نہ جانتا ہو، اور لکھنا جانتا ہو تو اشارہ سے نہ ہوگی بلکہ لکھنے سے ہو گی۔(7)(فتح القدیر)
مسئلہ ۱۰: کوئی اور لفظ کہنا چاہتا ہے ، زبان سے لفظ طلاق نکل گیا یا لفظ طلاق بولا مگر اس کے معنی نہیں جانتا یا سہواً( 8)یا غفلت میں کہا ان سب صورتوں میں طلاق واقع ہو گئی۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۱۱: مریض جس کا مرض اس حد کو نہ پہنچا ہو کہ عقل جاتی رہے اُس کی طلاق واقع ہے۔ کافر کی طلاق واقع ہے