Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
109 - 282
میں نے یہ کیا، یہ کیا۔ ابلیس کہتا ہے تو نے کچھ نہیں کیا۔ دوسرا آتا ہے اور کہتا ہے میں نے مرد اورعورت میں جُدائی ڈال دی۔ اسے اپنے قریب کرلیتا ہے اور کہتا ہے، ہاں تو ہے۔ (1)

    حدیث ۴: ترمذی نے ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا کہ ہر طلاق واقع ہے مگر معتوہ (2)(یعنی بوہرے) کی اوراُس کی جس کی عقل جاتی رہی یعنی مجنون کی۔ (3)

    حدیث ۵: امام احمد و ترمذی و ابو داود و ابن ماجہ و دارمی ثوبان رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمايا جو عورت بغیر کسی حرج کے شوہر سے طلاق کا سؤال کرے اُس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔ (4)

    حدیث ۶: بخاری و مسلم عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے اپنی زوجہ کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تھی۔ حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم سے اس واقعہ کو ذکر کیا حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے اس پر غضب فرمايا اور یہ ارشاد فرمايا کہ اُس سے رجعت کرلے اور روکے رکھے یہاں تک کہ پاک ہو جائے۔ پھر حیض آئے اور پاک ہو جائے۔ اس کے بعد اگر طلاق دینا چاہے تو طہارت کی حالت میں جماع سے پہلے طلاق دے۔ (5)

    حدیث ۷: نسائی نے محمود بن لبید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ ایک شخص نے اپنی زوجہ کو تین طلاقیں ایک ساتھ دے دیں اس کو سُن کر غصہ میں کھڑے ہو گئے اور یہ فرمايا کہ کتاب اﷲ سے کھیل کرتا ہے حالانکہ میں تمہارے اندر ابھی موجود ہوں۔ (6)

    حدیث ۸: امام مالک مؤطّا میں روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے کہا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''المسند''، للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللہ، الحدیث: ۱۴۳۸۴، ج۵، ص۵۲. 

2۔۔۔۔۔۔اصل کتاب میں یہ حدیث ان الفاظ سے مروی ہے '' کل طلاق جائز الا طلاق المعتوہ المغلوب علی عقلہ ''ترجمہ: ہرطلاق واقع ہے مگرمعتوہ جس کی عقل مغلوب ہوچکی ہو(جامع الترمذی،کتاب الطلاق،باب ماجاء فی طلاق المعتوہ ،الحدیث ۱۱۹۵ ،ج ۲،ص۴۰۴ ) جب کہ مشکاۃمیں اس طرح مروی ہے '' کل طلاق جائز إلا طلاق المعتوہ والمغلوب علی عقلہ''ترجمہ ہر طلاق واقع ہے مگر معتوہ (یعنی بوہرے) کی اوراُس کی جس کی عقل جاتی رہی یعنی مجنون کی،(مشکاۃبرقم۳۲۸۶،ج۱،ص۶۰۲ )اس کی شرح میں صاحب مرقاۃلکھتے ہیں کہ یہاں غالباًمغلوب العقل معتوہ کی تفسیرہے اوریہ عطف تفسیری ہے جس کی تائید بغیر''واو''والی روایت ہے اورہوسکتاہے کہ معتوہ سے مرادوہ ہوجس کی عقل میں فتورہواورمغلوب العقل سے مرادبالکل دیوانہ ہو(ماخوذاز المرقاۃ،ج۶،ص۴۲۹)۔...عِلْمِیہ

3۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''، أبواب الطلاق...إلخ، باب ماجاء في طلاق المعتوہ، الحدیث: ۱۱۹۵،ج۲ ص۴۰۴.

4۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذي''، أبواب الطلاق...إلخ، باب ماجاء في المختلعات، الحدیث: ۱۱۹۰،ج۲ ص۴۰۲.

5۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''، کتاب التفسیر، سورۃ الطلاق، الحدیث: ۴۹۰۸،ج۳ ص۳۵۷. 

6۔۔۔۔۔۔ ''سنن النسائي''، کتاب الطلاق، الثلاث المجموعۃ ومافیہ من التغلیظ، الحدیث: ۳۳۹۸، ص۵۵۴.
Flag Counter