نکاح سے عورت شوہر کی پابند ہو جاتی ہے۔ اس پابندی کے اُٹھا دینے کو طلاق کہتے ہیں اور اس کے ليے کچھ الفاظ مقرر ہیں جن کا بیان آگے آئے گا۔ اس کی دو۲ صورتیں ہیں ایک یہ کہ اسی وقت نکاح سے باہر ہو جائے اسے بائن کہتے ہیں۔ دوم یہ کہ عدّت گزرنے پر باہر ہوگی، اسے رجعی کہتے ہیں۔
مسئلہ ۱: طلاق دینا جائز ہے مگر بے وجہ شرعی ممنوع ہے(2) اور وجہ شرعی ہو تو مباح (3)بلکہ بعض صورتوں میں مستحب مثلاً عورت اس کویااوروں کو ایذا دیتی یا نماز نہیں پڑھتی ہے۔ عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ بے نمازی عورت کو طلاق دے دوں اور اُس کا مہر میرے ذمہ باقی ہو، اس حالت کے ساتھ دربار خدا میں میری پیشی ہو تو یہ اُس سے بہتر ہے کہ اُس کے ساتھ زندگی بسر کروں۔ اور بعض صورتوں میں طلاق دینا واجب ہے مثلاً شوہر نامرد یا ہیجڑا ہے یا اس پر کسی نے جادو یا عمل کردیا ہے کہ جماع کرنے پر قادر نہیں اور اس کے ازالہ کی بھی کوئی صورت نظر نہیں آتی کہ ان صورتوں میں طلاق نہ دینا سخت تکلیف پہنچانا ہے۔(4)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: طلاق کی تین قسمیں ہیں: (۱) حسن۔(۲) اَحسن۔(۳) بِدعی۔ جس طہر میں(5)وطی نہ کی ہو اُس میں ایک طلاق رجعی دے اور چھوڑے رہے یہاں تک کہ عدّت گزر جائے، یہ احسن ہے۔
اور غیر موطؤہ کو طلاق دی اگرچہ حیض کے دنوں میں دی ہو یا موطؤہ (6) کو تین طہر میں تین طلاقیں دیں۔ بشرطیکہ نہ ان طہروں میں وطی کی ہو نہ حیض میں یا تین مہینے میں تین طلاقیں اُس عورت کو دیں جسے حیض نہیں آتا مثلاً نا بالغہ یا حمل والی ہے یا ایاس کی عمر کو پہنچ گئی تو یہ سب صورتیں طلاق حسن کی ہیں۔ حمل والی یا سن ایاس (7)والی کو وطی کے بعد طلاق دینے میں کراہت نہیں۔ یوہیں اگر اُس کی عمر نو سال سے کم کی ہو تو کراہت نہیں اور نو برس یا زیادہ کی عمر ہے مگر ابھی حیض نہیں آیا ہے تو افضل یہ ہے کہ وطی و طلاق میں ایک مہینے کا فاصلہ ہو۔