Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہشتم (8)
108 - 282
    اور جب تم عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی میعاد پوری ہونے لگے تو اُنہیں بھلائی کے ساتھ روک لو یا خوبی کے ساتھ چھوڑ دو اور اُنہیں ضرر دینے کے ليے نہ روکو کہ حد سے گزر جاؤ اور جو ایسا کریگا اُس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور اﷲ (عزوجل) کی آیتوں کو ٹھٹانہ بناؤ اور اﷲ (عزوجل) کی نعمت جو تم پر ہے اُسے یاد کرو اور وہ جو اُس نے کتاب و حکمت تم پر اُتاری تمہیں نصیحت دینے کو اور اﷲ (عزوجل) سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اﷲ (عزوجل) ہر شے کو جانتا ہے۔

    اور فرماتا ہے :
    ( وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَہُنَّ فَلَا تَعْضُلُوۡہُنَّ اَنۡ یَّنۡکِحْنَ اَزْوَاجَہُنَّ اِذَا تَرَاضَوْا بَیۡنَہُمۡ بِالْمَعْرُوۡفِ ؕ ذٰلِکَ یُوۡعَظُ بِہٖ مَنۡ کَانَ مِنۡکُمْ یُؤْمِنُ بِاللہِ وَالْیَوْمِ الۡاٰخِرِ ؕ ذٰلِکُمْ اَزْکٰی لَکُمْ وَاَطْہَرُ ؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَاَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿۲۳۲﴾ ) (1)
    اور جب عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی میعاد پوری ہو جائے تو اے عورتوں کے والیو! اُنہیں شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ آپس میں موافق شرع رضا مند ہو جائيں۔ یہ اُس کو نصیحت کی جاتی ہے جو تم میں سے اﷲ (عزوجل) اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔ یہ تمہارے ليے زیادہ سُتھرا اور پاکیزہ ہے اور اﷲ (عزوجل) جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔
احاديث
    حدیث ۱: دارقطنی معاذ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضور اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''اے معاذ !کوئی چیز اﷲ (عزوجل) نے غلام آزاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ روئے زمین پر پیدا نہیں کی اور کوئی شے روئے زمین پر طلاق سے زیادہ ناپسندیدہ پیدا نہ کی۔'' (2)

    حدیث ۲: ابو داود نے ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے روایت کی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: کہ ''تمام حلال چیزوں میں خدا کے نزدیک زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے۔'' (3)

    حدیث ۳: امام احمد جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمايا کہ ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے اور اپنے لشکر کو بھیجتا ہے اور سب سے زیادہ مرتبہ والا اُس کے نزدیک وہ ہے جس کا فتنہ بڑا ہوتا ہے۔ اُن میں ایک آکر کہتا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔پ۲،البقرۃ:۲۳۲.

2۔۔۔۔۔۔''سنن الدار قطنی''،کتاب الطلاق،الحدیث:۳۹۳۹،ج ۴،ص۴۰.

3۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب الطلاق،باب کراھیۃ الطلاق،الحدیث:۲۱۷۸،ج۲،ص۳۷۰.
Flag Counter