Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
98 - 106
ڈالے جس کے نام کا قرعہ نکلے اسے لے جائے اور سفر سے واپسی کے بعد اور عورتوں کو یہ حق نہیں کہ اس کا مطالبہ کریں کہ جتنے دن سفر میں رہا۔ اُتنے ہی اُتنے دنوں ان باقیوں کے پاس رہے بلکہ اب سے باری مقرر ہوگی۔ (1) (جوہرہ) سفر سے مراد شرعی سفر ہے جس کا بیان نماز میں گزرا۔ عرف میں پردیس میں رہنے کو بھی سفر کہتے ہیں یہ مراد نہیں۔ 

    مسئلہ ۱۳: عورت کو اختیار ہے کہ اپنی باری سَوْت(2) کوہبہ کر دے اور ہبہ کرنے کے بعد واپس لینا چاہے تو واپس لے سکتی ہے۔ (3) (جوہرہ وغیرہا) 

    مسئلہ ۱۴: دو عورتوں سے نکاح کیا اس شرط پر کہ ایک کے یہاں زیادہ رہے گا یا عورت نے کچھ مال دیا یا مہرمیں سے کچھ کم کر دیا کہ اس کے پاس زیادہ رہے یا شوہر نے ایک کو مال دیا کہ وہ اپنی باری سَوْت کو دے دے یا ایک عورت نے دوسری کو مال دیا کہ یہ اپنی باری اسے دے دے یہ سب صورتیں باطل ہیں اور جو مال دیا ہے واپس ہوگا۔ (4) (عالمگیری)

    مسئلہ ۱۵: وطی و بوسہ ہر قسم کے تمتع سب عورتوں کے ساتھ یکساں کرنا مستحب ہے واجب نہیں۔ (5) (فتح القدیر)

    مسئلہ ۱۶: ایک مکان میں دو یا چند عورتوں کو اکٹھا نہ کرے اور اگر عورتیں ایک مکان میں رہنے پر خود راضی ہوں تورہ سکتی ہيں مگر ایک کے سامنے دوسری سے وطی نہ کرے اگر ایسے موقع پر عورت نے انکار کر دیا، تو نافرمان نہیں قرار دی جائے گی۔(6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۷: عورت کو جنابت و حیض و نفاس کے بعد نہانے پر مجبور کر سکتا ہے مگر عورت کتابیہ ہو تو جبر نہیں۔ خوشبو استعمال کرنے اور موئے زیرِ ناف (7) صاف کرنے پر بھی مجبور کر سکتا ہے اور جس چیز کی بُو سے اسے نفرت ہے مثلاً کچا لہسن، کچی پیاز، مولی وغیرہ کھانے، تمباکو کھانے حقّہ پینے کومنع کر سکتا ہے بلکہ ہر مباح چیز جس سے شوہر منع کرے عورت کو اس کا ماننا واجب۔ (8) (عالمگیری، ردالمحتار)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني،ص۳۳. 

2۔۔۔۔۔۔ سوتن،سوکن۔

3۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني،ص۳۳،وغیرہا. 

4۔۔۔۔۔۔ ''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۱. 

5۔۔۔۔۔۔''فتح القدیر''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۳،ص۳۰۲. 

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۱. 

7۔۔۔۔۔۔یعنی ناف کے نیچے کے بال۔

8۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''، کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۱.

و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۸۵.
Flag Counter