مسئلہ ۶: رات میں کام کرتا ہے مثلاً پہرہ دینے پر نوکر ہے تو باریاں دن کی مقرر کرے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۷: ایک عورت کے یہاں آفتاب کے غروب کے بعد آیا۔ دوسری کے یہاں بعد عشا تو باری کے خلاف ہوا۔ یعنی رات کا حصہ دونوں کے پاس برابر صرف کرنا چاہيے۔ رہا دن اس میں برابری ضروری نہیں ایک کے پاس دن کا زیادہ حصہ گزرا، دوسری کے پاس کم تو اس میں حرج نہیں۔ (2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸: شوہر بیمار ہوا اور عورتوں کے مکانات سکونت کے علاوہ بھی اس کا کوئی مکان ہے۔ اور اسی گھر میں ہے تو ہر ایک کو اس کی باری پر اس مکان میں بلائے اور اگر ان میں سے کسی کے مکان میں ہے تو دوسری کی باری میں اس کے مکان پر چلا جائے۔ اور اگر اتنی طاقت نہیں کہ دوسری کے یہاں جائے تو صحت کے بعد دوسری کے یہاں اتنے ہی دن ٹھہرے جتنے دن بیماری میں اس کے یہاں تھا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۹: یہ اختیار شوہر کو ہے کہ ایک ایک دن کی باری مقرر کرے یا تین تین دن کی بلکہ ایک ایک ہفتہ کی بھی مقرر کر سکتا ہے اور یہ بھی شوہر ہی کو اختیار ہے کہ شروع کس کے پاس سے کرے ایک ہفتہ سے زیادہ نہ رہے۔ اور اگر ایک کے پاس جو مقرر کیا ہے اس سے زیادہ رہا تو دوسری کے پاس بھی اتنے ہی دنوں رہے۔ (4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جب سب عورتوں کی باریاں پوری ہو گئیں تو کچھ دنوں ان میں کسی کے پاس نہ رہنے بلکہ کسی کنیز کے پاس رہنے یا تنہا رہنے کا شوہر کو اختیار ہے یعنی یہ ضرورنہیں کہ ہمیشہ کسی نہ کسی کے یہاں رہے۔ (5) (ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: ایک عورت کے پاس مہینے بھر رہا اور دوسری کے پاس نہ رہا۔ اس نے دعویٰ کیا تو آئندہ کے ليے قاضی حکم دے گا کہ دونوں کے پاس برابر برابر رہے اور پہلے جو ایک مہینہ رہ چکا ہے اس کا معاوضہ نہیں اگرچہ عدل نہ کرنے سے گنہگار ہوا اور قاضی کے منع کرنے پر بھی نہ مانے تو سزا کا مستحق ہے۔ (6) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: سفر کو جانے میں باری نہیں بلکہ شوہر کو اختیار ہے جسے چاہے اپنے ساتھ لے جائے اور بہتر یہ ہے کہ قرعہ