Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
96 - 106
کر سکتی ہے اور اسے حکم دیا جائے گا کہ عورت کے پاس بھی رہا کرے، کہ حدیث میں فرمایا :
(( وَاِنَّ لِزَوْجِکَ عَلَیْک حَقًّا ))(1)
 ''تیری بی بی کا تجھ پر حق ہے۔'' روز مرّہ شب بیداری اور روزے رکھنے میں اس کا حق تلف ہوتا ہے۔ رہایہ کہ اس کے پاس رہنے کی کیامیعاد ہے اس کے متعلق ایک روایت یہ ہے، کہ چار دن میں ایک دن اس کے ليے اور تین دن عبادت کے ليے ۔ اور صحیح یہ ہے کہ اسے حکم دیا جائے کہ عورت کا بھی لحاظ رکھے، اس کے ليے بھی کچھ وقت دے اور اس کی مقدار شوہر کے متعلق ہے۔ (2) (جوہرہ، خانیہ) 

    مسئلہ ۳: نئی اور پرانی، کوآری اور ثیب، تندرست اور بیمار، حاملہ اور غیرحاملہ اور وہ نابالغہ جو قابلِ وطی ہو، حیض ونفاس والی اور جس سے ایلا یا ظہار کیا ہو اور جس کو طلاق رجعی دی اور رجعت کا ارادہ ہو اور احرام والی اور وہ مجنونہ جس سے ایذا کا خوف نہ ہو، مسلمہ اور کتابیہ سب برابر ہیں،سب کی باریاں برابر ہوں گی۔ يوہيں مرد عنین (3)ہویاخصّی(4)، مریض ہو یاتندرست، بالغ ہو یا نابالغ قابلِ وطی ان سب کا ایک حکم ہے۔ (5) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۴: ایک زوجہ کنیز ہے دوسری حرّہ تو آزاد کے ليے دو دن اور دو راتیں اور کنیز کے ليے ایک دن رات اور اگر اس عورت کے پاس جو کنیز ہے، ایک دن رات رہ چکا تھا کہ آزاد ہوگئی تو حرّہ کے پاس چلا جائے۔ يوہيں حرّہ کے پاس ایک دن رات رہ چکا تھا اب کنیز آزاد ہوگئی ،تو کنیزکے پاس چلا جائے کہ اب اس کے یہاں دو دن رہنے کی کوئی وجہ نہیں، جوکنیز اس کی مِلک میں ہے اس کے ليے باری نہیں۔ (6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۵: باری میں رات کا اعتبار ہے لہٰذا ایک کی رات میں دوسری کے یہاں بلا ضرورت نہیں جاسکتا۔ دن میں کسی حاجت کے ليے جا سکتا ہے اور دوسری بیمار ہے تو اس کے پوچھنے کو رات میں بھی جا سکتا ہے اور مرض شدید ہے تو اس کے یہاں رہ بھی سکتا ہے یعنی جب اس کے یہاں کوئی ایسا نہ ہو جس سے اس کا جی بہلے اور تیمارداری کرے۔ ایک کی باری میں دوسری سے دن میں بھی جماع نہیں کر سکتا۔ (7) (جوہرہ نیرہ)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب النکاح،باب لزوجک علیک حق،الحدیث:۵۱۹۹،ج۳،ص۴۶۳.

2۔۔۔۔۔۔''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني،ص۳۳. 

و''الفتاوی الخانیۃ''،کتاب النکاح،فصل في القسم،ج۱،ص۲۰۱.

3۔۔۔۔۔۔ یعنی نامرد۔        4۔۔۔۔۔۔ وہ شخص جس کے خصیے نکال دیئے گئے ہوں۔

5۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب الحادی عشر في القسم،ج۱،ص۳۴۰.

6۔۔۔۔۔۔المرجع السابق .

7۔۔۔۔۔۔ ''الجوہرۃ النیرۃ''،کتاب النکاح،الجزء الثاني،ص۳۲.
Flag Counter