| بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7) |
حدیث ۳: صحیح مسلم میں عبداﷲ بن عمرو(1) رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بیشک عدل کرنے والے اﷲ (عزوجل) کے نزدیک رحمن کی دہنی طرف نور کے منبر پر ہوں گے اور اس کے دونوں ہاتھ دہنے ہیں، وہ لوگ جو حکم کرتے اور اپنے گھر والوں میں عدل کرتے ہیں۔'' (2)
حدیث ۴: صحيحين میں ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے مروی، کہ حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم جب سفر کاارادہ فرماتے تو ازواجِ مطہرات میں قرعہ ڈالتے، جن کا قرعہ نکلتا انھيں اپنے ساتھ لے جاتے۔'' (3)مسائلِ فقہیہ
جس کی دو یا تین یا چار عورتیں ہوں اس پر عدل فرض ہے، یعنی جو چیزیں اختیاری ہوں، اُن میں سب عورتوں کا یکساں لحاظ کرے یعنی ہر ایک کو اس کا پورا حق ادا کرے۔ پوشاک(4) اور نان نفقہ اور رہنے سہنے میں سب کے حقوق پورے ادا کرے اور جو بات اس کے اختیار کی نہیں اس میں مجبور و معذور ہے، مثلاً ایک کی زیادہ محبت ہے، دوسری کی کم۔ يوہيں جماع سب کے ساتھ برابر ہونا بھی ضروری نہیں۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۱: ایک مرتبہ جماع قضاءً واجب ہے اور دیانۃً یہ حکم ہے کہ گاہے گاہے(6) کرتا رہے اور اس کے ليے کوئی حد مقرر نہیں مگر اتنا تو ہو کہ عورت کی نظرا وروں کی طرف نہ اُٹھے اوراتنی کثرت بھی جائز نہیں کہ عورت کو ضرر پہنچے اور یہ اس کے جُثّہ(7) اور قوت کے اعتبار سے مختلف ہے۔ (8) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: ایک ہی بی بی ہے مگر مرد اس کے پاس نہیں رہتا بلکہ نماز روزہ میں مشغول رہتا ہے، تو عورت شوہر سے مطالبہــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1۔۔۔۔۔۔ بہار شریعت کے نسخوں میں اس مقام پر'' عبد اللہ بن عمر''رضی اللہ تعالیٰ عنہما لکھا ہے ،جو کتابت کی غلطی معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ حدیث پاک ''صحیح مسلم''میں حضرت سیدنا''عبد اللہ بن عَمْرو''رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے اسی وجہ سے ہم نے اس کی تصحیح کردی ۔...عِلْمِیہ 2۔۔۔۔۔۔''صحیح مسلم''،کتاب الامارۃ،باب فضیلۃ الامیر العادل...إلخ،الحدیث:۱۸۔(۱۸۲۷،ص۱۰۱۵. 3۔۔۔۔۔۔''صحیح البخاري''،کتاب الشھادات،باب القرعۃ في المشکلات،الحدیث:۲۶۸۸،ج۲،ص۲۰۸. 4۔۔۔۔۔۔لباس۔ 5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۷۵. 6۔۔۔۔۔۔یعنی کبھی کبھی۔ 7۔۔۔۔۔۔جسم ،جسامت۔ 8۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب القسم،ج۴،ص۳۷۶،وغیرہ.