Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
94 - 106
باری مقرر کرنے کا بیان
    اﷲ عزوجل فرماتا ہے:
    (فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوۡا فَوَاحِدَۃً اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیۡمَانُکُمْ ؕ ذٰلِکَ اَدْنٰۤی اَلَّا تَعُوۡلُوۡا ) (1)
    اگر تمھیں خوف ہو کہ عدل نہ کرو گے تو ایک ہی سے نکاح کرو یا وہ باندیاں جن کے تم مالک ہو، یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ تم سے ظلم نہ ہو۔ 

    اور فرماتا ہے:
    (وَلَنۡ تَسْتَطِیۡعُوۡۤا اَنۡ تَعْدِلُوۡا بَیۡنَ النِّسَآءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیۡلُوۡا کُلَّ الْمَیۡلِ فَتَذَرُوۡہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ؕ وَ اِنۡ تُصْلِحُوۡا وَتَتَّقُوۡا فَاِنَّ اللہَ کَانَ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۲۹﴾ ) (2)
    تم سے ہرگز نہ ہو سکے گا کہ عورتوں کو برابر رکھو، اگرچہ حرص کرو تو یہ تو نہ ہو کہ ایک طرف پورا جھک جاؤ اور دوسری کو لٹکتی چھوڑ دو اور اگر نیکی اور پرہیزگاری کرو تو بے شک اﷲ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے۔ 

    حدیث ۱: امام احمد و ابو داود و نسائی و ابن ماجہ ابوہریرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نےفرمایا: ''جس کی دو عورتیں ہوں، ان میں ایک کی طرف مائل ہو تو قیامت کے دن اس طرح حاضر ہوگا کہ اس کا آدھا دھڑمائل ہوگا۔'' (3) 

     ترمذی اور حاکم کی روایت ہے، کہ ''اگر دونوں میں عدل نہ کریگا تو قیامت کے دن حاضر ہوگا، اس طرح پر کہ آدھادھڑ ساقط (بیکار) ہوگا۔'' (4) 

    حدیث ۲: ابو داود و ترمذی و نسائی و ابن ماجہ و ابن حبان نے ام المومنین صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے روایت کی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم باری میں عدل فرماتے اور کہتے: ''الٰہی! میں جس کا مالک ہوں، اس میں میں نے یہ تقسیم کر دی اورجس کا مالک تو ہے میں مالک نہیں (یعنی محبتِ قلب) اس میں ملامت نہ فرما۔'' (5)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔ پ۴،النساء:۳.    2۔۔۔۔۔۔ پ۵،النساء:۱۲۹.

3۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب فی القسم بین النساء،الحدیث:۲۱۳۳،ج۲،ص۳۵۲.

4۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذی''،أبواب النکاح،باب ماجاء فی التسویۃ بین الضرائر،الحدیث:۱۱۴۴،ج۲،ص۳۷۵.

5۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب فی القسم بین النساء،الحدیث:۲۱۳۴،ج۲،ص۳۵۳.
Flag Counter