ہاں اگر بچہ دارالحرب میں ہے اور اس کا باپ دارالاسلام میں مسلمان ہوا تو اس صورت میں اس کا تابع نہ ہوگا اور اگر ایک کتابی ہے، دوسرا مجوسی یا بت پرست تو بچہ کتابی قرار دیا جائے۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۲۳: مسلمان کا کسی لڑکی سے نکاح ہوا اور اس لڑکی کے والدین مسلمان تھے، پھر مرتد ہو گئے تو وہ لڑکی نکاح سے باہر نہ ہوئی اور اگر لڑکی کے والدین مرتد ہو کر لڑکی کو لے کر دارالحرب کو چلے گئے تو اب باہر ہوگئی اور اگر اس کے والدین میں سے کوئی حالتِ اسلام میں مر چکا ہے یا مرتد ہونے کی حالت میں مرا پھر دوسرا مرتد ہو کر لڑکی کو دارالحرب میں لے گیا تو باہر نہ ہوئی۔ خلاصہ یہ کہ والدین کے مرتد ہونے سے چھوٹے بچے مرتد نہ ہوں گے، جب تک دونوں مرتد ہو کر اسے دارالحرب کو نہ لے جائیں۔ نیز یہ کہ ایک مر گیا تو دوسرے کے تابع نہ ہوں گے اگرچہ یہ مرتد ہو کر دارالحرب کو لے جائے اور تابع ہونے میں یہ شرط ہے کہ خود وہ بچہ اس قابل نہ ہو کہ اسلام و کفر میں تمیز کر سکے اور سمجھ وال ہے تو اسلام و کفر میں کسی کا تابع نہیں۔
مجنون بھی بچہ ہی کے حکم میں ہے کہ وہ تابع قرار دیا جائے گا، جبکہ جنون اصلی ہو اور بلوغ سے پہلے یا بعد بلوغ مسلمان تھا پھر مجنون ہوگيا تو کسی کا تابع نہیں، بلکہ یہ مسلمان ہے۔ بوہرے کا بھی یہی حکم ہے، کہ اصلی ہے تو تابع اور عارضی ہے تو نہیں۔ (2) (عالمگیری، درمختار وغیرہما)
مسئلہ ۲۴: بالغ ہو اور سمجھ بھی رکھتا ہو مگر اسلام سے واقف نہیں تو مسلمان نہیں یعنی جبکہ ایمان اجمالی بھی نہ ہو۔
مسئلہ ۲۵: مرتد و مرتدہ کا نکاح کسی سے نہیں ہوسکتا، نہ مسلمان سے، نہ کافر سے، نہ مرتدہ و مرتد سے۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۲۶: زبان سے کلمہ کفر نکلا، اس نے تجدید اسلام و تجدید نکاح کی، اگر معاذ اﷲ کئی بار یوہیں ہوا جب بھی اسے حلالہ کی اجازت نہیں۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: نشہ والا جس کی عقل جاتی رہی اور زبان سے کلمہ کفر نکلا تو عورت نکاح سے باہر نہ ہوئی۔ (5) (عالمگیری) مگر تجدیدِ نکاح کیجائے۔