رجعت کرنا چاہے تو نہیں کرسکتا، بلکہ جدید نکاح کرنا ہوگا اور دخول ہو چکا ہو تو عورت پر عدّت واجب ہے اور عدّت کا نفقہ شوہر سے لے گی اور پورا مہر شوہر سے لے سکتی ہے اور قبل دخول ہو تو نصف مہر واجب ہوا اور عدّت نہیں اور اگر شوہر مسلمان ہوا اور عورت نے انکار کیا تو تفریق فسخ نکاح ہے، کہ عورت کی جانب سے طلاق نہیں ہو سکتی ہے پھر اگر وطی ہو چکی ہے تو پورا مہر لے سکتی ہے ورنہ کچھ نہیں۔ (1) (درمختار، بحر)
مسئلہ ۱۷: زن و شو میں سے کوئی معاذ اﷲ مرتد ہوگيا تو نکاح فوراً ٹوٹ گیا اور یہ فسخ ہے طلاق نہیں، عورت موطؤہ (2) ہے تو مہر بہرحال پورا لے سکتی ہے اور غیر موطؤہ ہے تو اگر عورت مرتد ہوئی کچھ نہ پائے گی اور شوہر مرتد ہوا تو نصف مہر لے سکتی ہے اور عورت مرتدہ ہوئی اور زمانہ عدّت میں مر گئی اور شوہر مسلمان ہے تو ترکہ پائے گا۔ (3) (درمختار)
مسئلہ ۱۸: دونوں ایک ساتھ مرتد ہوگئے پھر مسلمان ہوئے تو پہلا نکاح باقی رہا اور اگر دونوں میں ایک پہلے مسلمان ہوا پھر دوسرا تو نکاح جاتا رہا اور اگر یہ معلوم نہ ہو کہ پہلے کون مرتد ہوا تو دونوں کا مرتد ہونا ایک ساتھ قرار دیا جائے۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: عورت مرتدہ ہوگئی تو اسلام لانے پر مجبور کی جائے یعنی اسے قید میں رکھیں، یہاں تک کہ مر جائے یا اسلام لائے اور جدید نکاح ہو تو مہر بہت تھوڑا رکھا جائے۔ (5) (درمختار)
مسئلہ ۲۰: عورت نے زبان سے کلمہ کفر جاری کیا تاکہ شوہر سے پیچھا چھوٹے یا اس ليے کہ دوسرا نکاح ہوگا تو اس کا مہر بھی وصول کرے گی تو ہر قاضی کو اختیار ہے کہ کم سے کم مہر پر اسی شوہر کے ساتھ نکاح کر دے، عورت راضی ہو یا ناراض اور عورت کو یہ اختیار نہ ہوگا کہ دوسرے سے نکاح کرلے۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: مسلمان کے نکاح میں کتابیہ عورت تھی اور مرتد ہوگيا، یہ عورت بھی اس کے نکاح سے باہر ہوگئی۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: بچہ اپنے باپ ماں میں اس کا تابع ہوگا جس کا دین بہتر ہو، مثلاً اگر کوئی مسلمان ہوا تو اولاد مسلمان ہے،