مسلمان ہو کر یا ذمی بن کر دارالاسلام میں آیا یا یہاں آکر مسلمان یا ذمی ہوا یا قید کرکے دارالحرب سے دارالاسلام میں لایا گیا تو نکاح سے باہر ہوگئی اور اگر دونوں ایک ساتھ قید کر کے لائے گئے يا دونوں ایک ساتھ مسلمان یا ذمی بن کر وہاں سے آئے یا یہاں آکر مسلمان ہوئے یا ذمہ قبول کیا تو نکاح سے باہر نہ ہوئی یا حربی امن لے کر دارالاسلام میں آیا یا مسلمان یا ذمی دارالحرب کو امان لے کر گیا تو عورت نکاح سے باہر نہ ہوگی۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: باغی کی حکومت سے نکل کر امامِ برحق کی حکومت میں آیا یا بالعکس تو نکاح پر کوئی اثر نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: مسلمان یا ذمی نے دارالحرب میں حربیہ کتابیہ سے نکاح کیا تھا۔ وہ وہاں سے قید کر کے لائی گئی تو نکاح سے خارج نہ ہوئی۔ يوہيں اگر وہ شوہر سے پہلے خود آئی، جب بھی نکاح باقی ہے اور اگر شوہر پہلے آیا اور عورت بعد میں تو نکاح جاتا رہا۔ (3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: ہجرت کر کے دارالاسلام میں آئی، مسلمان ہو کر یا ذمی بن کر یا یہاں آکر مسلمان یا ذمیہ ہوئی تو اگر حاملہ نہ ہو، فوراً نکاح کر سکتی ہے اور حاملہ ہو تو بعد وضع حمل مگر یہ وضع حمل اس کے ليے عدّت نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۱۵: کافر نے عورت اور اس کی لڑکی دونوں سے نکاح کیا، اب مسلمان ہوا، اگر ایک عقد میں نکاح ہوا تو دونوں کا باطل اور علیحدہ علیحدہ نکاح کیا اور دخول کسی سے نہ ہوا تو پہلا نکاح صحیح ہے دوسرا باطل اور دونوں سے وطی کر لی ہے تو دونوں باطل اور اگر پہلے ایک سے نکاح ہوا اور دخول بھی ہوگيا، اس کے بعد دوسری سے نکاح کیا تو پہلا جائز دوسرا باطل اور اگر پہلی سے صحبت نہ کی، مگر دوسری سے کی تو دونوں باطل، مگر جبکہ پہلی عورت ماں ہو اور دوسری اسکی بیٹی اور فقط اس دوسری سے وطی کی تو اس لڑکی سے پھر نکاح کر سکتا ہے اور اس کی ماں سے نہیں۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: عورت مسلمان ہوئی اور شوہر پر اسلام پیش کیا گیا، اس نے اسلام لانے سے انکار یا سکوت کیا تو تفریق کی جائے گی اور یہ تفریق طلاق قرار دی جائے، یعنی اگر بعد میں مسلمان ہوا اور اسی عورت سے نکاح کیا تو اب دو ہی طلاق کامالک رہے گا، کہ منجملہ تین طلاقوں کے ایک پہلے ہو چکی ہے اور یہ طلاق بائن ہے اگرچہ دخول ہو چکا ہو یعنی اگر مسلمان ہو کر