اگر کتابی کی عورت مسلمان ہوگئی تو مرد پر اسلام پیش کیا جائے، اسلام قبول نہ کیا تو تفریق کر دی جائے اور اگر دونوں کتابی ہیں اور مرد مسلمان ہوا تو عورت بدستور اس کی زوجہ ہے۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۷: نابالغ لڑکا یا لڑکی سمجھ دار ہوں تو ان کا بھی وہی حکم ہے اور نا سمجھ ہوں تو انتظار کیا جائے، جب تمیز آجائے تو اسلام پیش کیا جائے اور اگر شوہر مجنون ہے تو اس کا انتظار نہ کیا جائے کہ ہوش میں آئے تو اس پر اسلام پیش کریں بلکہ اس کے باپ ماں پر اسلام پیش کریں ان میں جو کوئی مسلمان ہو جائے وہ مجنون اس کا تابع ہے اور مسلمان قرار دیا جائے گا۔ اور اگر کوئی مسلمان نہ ہوا تو تفریق کر دیں اور اگر اس کے والدین نہ ہوں تو قاضی کسی کو ا س کے باپ کا وصی قرار دے کرتفریق کر دے۔ یہ سب تفصیل جنون اصلی (2)میں ہے اوراگر وہ پہلے مسلمان تھا تو وہ مسلمان ہی ہے اگرچہ اس کے ماں باپ کافر ہوں۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: شوہر مسلمان ہوگيا اور عورت مجوسیہ تھی اور یہودیہ یا نصرانیہ ہوگئی تو تفریق نہیں۔ يوہيں اگر یہودیہ تھی اب نصرانیہ ہوگئی یا بالعکس تو بدستور زوجہ ہے۔ يوہيں اگر مسلمان کی عورت نصرانیہ تھی، یہودیہ ہوگئی یا یہودیہ تھی، نصرانیہ ہوگئی تو بدستور اس کی عورت ہے۔ يوہيں اگر نصرانی کی عورت مجوسیہ ہوگئی تو وہ اس کی عورت ہے۔ (4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۹: یہ تمام صورتیں اس وقت ہیں کہ دارالاسلام میں اسلام قبول کیا ہو اور اگر دارالحرب میں مسلمان ہوا تو عورت تین حیض گزرنے پر نکاح سے خارج ہوگئی اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے گزرنے پر۔ کم عمر ہونے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو یا بڑھیا ہوگئی کہ حیض بند ہوگيا اور حاملہ ہو تو وضع حمل سے نکاح جاتا رہا اور یہ تین حیض یا تین مہینے عدّت کے نہیں۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: جو جگہ ایسی ہو کہ نہ دارالاسلام ہو، نہ دارالحرب وہ دارالحرب کے حکم میں ہے۔ (6) (درمختار) اور اگر وہ جگہ دارالاسلام ہو مگر کافر کا تسلط ہو جیسے آج کل ہندوستان تو اس معاملہ میں یہ بھی دارالحرب کے حکم میں ہے، یعنی تین حیض یا تین مہینے گزرنے پر نکاح سے باہر ہوگی۔
مسئلہ ۱۱: ایک دارالاسلام میں آکر رہنے لگا، دوسرا دارالحرب میں رہا جب بھی عورت نکاح سے باہر ہو جائے گی، مثلاً