مثلاً بغیر گواہ نکاح ہوا یا عورت کافر کی عدّت میں تھی، اس سے نکاح کیا مگر شرط یہ ہے کہ کفار ایسے نکاح کے جائز ہونے کے معتقد ہوں۔ پھر ایسے نکاح کے بعد اگر دونوں مسلمان ہو گئے تو اسی نکاحِ سابق پر باقی رکھے جائیں (1) جدید نکاح کی حاجت نہیں۔ يوہيں اگر قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا تو قاضی تفریق نہ کریگا۔ (2) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲: کافر نے محارم سے نکاح کیا، اگر ایسا نکاح ان لوگوں میں جائز ہو تو نکاح کے لوازم نفقہ وغیرہ ثابت ہو جائیں گے مگر ایک دوسرے کا وارث نہ ہوگا اور اگر دونوں اسلام لائے یا ایک تو تفریق کر دی جائے گی۔ يوہيں اگر قاضی یا کسی مسلمان کے پاس دونوں نے اس کا مقدمہ پیش کیا تو تفریق کر دے گا اور ایک نے کیا تو نہیں۔ (3) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۳: دو بہنوں کے ساتھ ایک عقد میں نکاح کیا ،پھر ایک کو جدا کر دیا پھر مسلمان ہوا تو جو باقی ہے اس کا نکاح صحیح ہے، اُسی نکاح پر برقرار رکھے جائیں اور جدا نہ کیا ہو تو دونوں باطل اور اگر دو عقد کے ساتھ نکاح ہوا تو پہلی کا صحیح ہے، دوسری کا باطل۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: کافر نے عورت کو تین طلاقیں دیدیں ،پھر اس کے ساتھ بدستور رہتا رہا نہ اس سے دوسرے نے نکاح کیا، نہ اس نے دوبارہ نکاح کیا یا عورت نے خلع کرایا اور بعد خلع بغیر تجدید نکاح بدستور رہا کیاتو ان دونوں صورتوں میں قاضی تفریق کر دے گا اگرچہ نہ مسلمان ہوا، نہ قاضی کے پاس مقدمہ آیا اور اگر تین طلاقیں دینے کے بعد عورت کا دوسرے سے نکاح نہ ہوا مگر اس شوہر نے تجدید نکاح کی تو تفریق نہ کی جائے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵: کتابیہ سے مسلمان نے نکاح کیا تھا اور طلاق دے دی، ہنوز (6)عدّت ختم نہ ہوئی تھی کہ اس سے کسی کافر نے نکاح کیا تو تفریق (7) کر دی جائے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۶: زوج و زوجہ دونوں کافر غیر کتابی تھے، ان میں سے ایک مسلمان ہوا تو قاضی دوسرے پر اسلام پیش کرے اگر مسلمان ہوگيا فبہا(9) اور انکار یا سکوت کیا تو تفریق کر دے، سکوت کی صورت میں احتیاط یہ ہے کہ تین بار پیش کرے۔ يوہيں