Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
88 - 106
اور مولیٰ نے نہ اجازت دی، نہ رد کیا اور آزاد کر دیا تو نکاح صحیح ہوگيا اور خیار عتق نہیں ہے۔ (1) (درمختار) 

    مسئلہ ۳۴: بیٹے کی کنیز سے نکاح کیا اور اس سے اولاد ہوئی تو یہ اولاد اپنے بھائی کی طرف سے آزاد ہے مگر وہ کنیز ام ولد نہ ہوئی۔ يوہيں اگر باپ کی کنیز سے نکاح کیا تو اولاد باپ کی طرف سے آزاد ہوگی اور کنیز ام ولد نہیں۔ (2) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۳۵: بیٹے کی باندی سے وطی کی اور اولاد نہ ہوئی تو عقر واجب ہے اور وطی حرام ہے اور عقر یہ ہے کہ صرف باعتبارِ جمال جو اس کی مثل کا مہر ہونا چاہيے، وہ دینا ہوگا اور اولاد ہوئی اور باپ نے اس کا دعویٰ بھی کیا اور وہ باپ حُرّ، مسلم، عاقل ہو تو نسب ثابت ہو جائے گا بشرطیکہ وقتِ وطی سے وقتِ دعویٰ تک لڑکا اس کنیز کا مالک رہے اور کنیز باپ کی ام ولد ہو جائے گی اور اولاد آزاد اور باپ کنیز کی قیمت لڑکے کو دے، عقر اور اولاد کی قیمت نہیں اور اگر اس درمیان میں لڑکے نے اس کنیز کو اپنے بھائی کے ہاتھ بیچ ڈالا، جب بھی نسب ثابت ہوگا اور یہی احکام ہوں گے۔ لڑکے نے اپنی ام ولد کی اولاد کی نفی کر دی یعنی یہ کہ یہ میری نہیں اور باپ نے دعویٰ کیا کہ یہ میری اولاد ہے یا لڑکے کی مدبرہ یا مکاتبہ کی اولاد کا باپ نے دعویٰ کیا تو ان سب صورتوں میں محض باپ کے دعویٰ کرنے سے نسب ثابت نہ ہوگا جب تک لڑکا باپ کی تصدیق نہ کرے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳۶: دادا باپ کے حکم میں ہے جبکہ باپ مر چکا ہو یا کافر یا مجنون یا غلام ہو بشرطیکہ وقتِ علوق سے(4) وقتِ دعویٰ تک دادا کو ولایت حاصل ہو۔ (5) (درمختار)
نکاح کافر کا بیان
    زہری نے مرسلاً روایت کی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) کے زمانہ میں کچھ عورتیں اسلام لائیں اور ان کے شوہر کافر تھے پھر جب شوہر بھی مسلمان ہو گئے، تو اسی پہلے نکاح کے ساتھ یہ عورتیں ان کو واپس کی گئیں۔(6) یعنی جدید نکاح نہ کیا گیا۔ 

    مسئلہ ۱: جس قسم کا نکاح مسلمانوں میں جائز ہے اگر اُس طرح کافر نکاح کریں تو ان کا نکاح بھی صحیح ہے مگر بعض اس قسم کے نکاح ہیں جو مسلمان کے ليے ناجائز اور کافر کرلے تو ہو جائے گا۔ اس کی صورت یہ ہے کہ نکاح کی کوئی شرط مفقود ہو،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۳۹. 

2۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۶.

3۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،مطلب:في حکم اسقاط الحمل،ج۴،ص۳۴۰۔۳۴۳.

4۔۔۔۔۔۔یعنی حاملہ ہونے کے وقت سے۔

5۔۔۔۔۔۔ ''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۴۳.

6۔۔۔۔۔۔ ''کنز العمال''،کتاب النکاح،الحدیث:۴۵۸۴۲،ج۱۶،ص۲۳۰.
Flag Counter