اور مولیٰ نے نہ اجازت دی، نہ رد کیا اور آزاد کر دیا تو نکاح صحیح ہوگيا اور خیار عتق نہیں ہے۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: بیٹے کی کنیز سے نکاح کیا اور اس سے اولاد ہوئی تو یہ اولاد اپنے بھائی کی طرف سے آزاد ہے مگر وہ کنیز ام ولد نہ ہوئی۔ يوہيں اگر باپ کی کنیز سے نکاح کیا تو اولاد باپ کی طرف سے آزاد ہوگی اور کنیز ام ولد نہیں۔ (2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: بیٹے کی باندی سے وطی کی اور اولاد نہ ہوئی تو عقر واجب ہے اور وطی حرام ہے اور عقر یہ ہے کہ صرف باعتبارِ جمال جو اس کی مثل کا مہر ہونا چاہيے، وہ دینا ہوگا اور اولاد ہوئی اور باپ نے اس کا دعویٰ بھی کیا اور وہ باپ حُرّ، مسلم، عاقل ہو تو نسب ثابت ہو جائے گا بشرطیکہ وقتِ وطی سے وقتِ دعویٰ تک لڑکا اس کنیز کا مالک رہے اور کنیز باپ کی ام ولد ہو جائے گی اور اولاد آزاد اور باپ کنیز کی قیمت لڑکے کو دے، عقر اور اولاد کی قیمت نہیں اور اگر اس درمیان میں لڑکے نے اس کنیز کو اپنے بھائی کے ہاتھ بیچ ڈالا، جب بھی نسب ثابت ہوگا اور یہی احکام ہوں گے۔ لڑکے نے اپنی ام ولد کی اولاد کی نفی کر دی یعنی یہ کہ یہ میری نہیں اور باپ نے دعویٰ کیا کہ یہ میری اولاد ہے یا لڑکے کی مدبرہ یا مکاتبہ کی اولاد کا باپ نے دعویٰ کیا تو ان سب صورتوں میں محض باپ کے دعویٰ کرنے سے نسب ثابت نہ ہوگا جب تک لڑکا باپ کی تصدیق نہ کرے۔ (3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: دادا باپ کے حکم میں ہے جبکہ باپ مر چکا ہو یا کافر یا مجنون یا غلام ہو بشرطیکہ وقتِ علوق سے(4) وقتِ دعویٰ تک دادا کو ولایت حاصل ہو۔ (5) (درمختار)