نکاح سے جتنی اولادیں پیدا ہوئیں آزاد ہیں اور اگر طلاق دے کر پھر نکاح کیا تواس نکاحِ ثانی کی اولاد آزاد نہیں۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۲۹: کنیز کا نکاح کر دیا اور وطی سے پہلے مولیٰ نے اس کو مار ڈالا، اگرچہ خطاً قتل واقع ہوا تو مہر ساقط ہوگيا جبکہ وہ مولیٰ عاقل بالغ ہو اور اگر لونڈی نے خودکشی کی یا مرتدہ ہوگئی یا اس نے اپنے شوہر کے بیٹے کا بشہوت بوسہ لیا یا شوہر کی وطی کے بعد مولیٰ نے قتل کیا تو ان صورتوں میں مہر ساقط نہیں۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۳۰: وطی کرنے میں اگر انزال باہر کرنا چاہتا ہے تو اس میں اجازت کی ضرورت ہے، اگر عورت حرّہ یا مکاتبہ ہے تو خود اسکی اجازت سے اور کنیز بالغہ ہے تو مولیٰ کی اجازت سے اور اپنی کنیزسے وطی کی تو اصلاً اجازت کی حاجت نہیں۔ (3) (درمختار وغيرہ)
مسئلہ ۳۱: کنیز جو کسی کے نکاح میں ہے اگرچہ اس کا شوہر آزاد ہو جب وہ آزاد ہوگی ،تو اسے اختیار ہے چاہے اپنے نفس کو اختیار کرے تو نکاح فسخ ہو جائے گا اور وطی نہ ہوئی ہو تو مہر بھی نہیں اور چاہے شوہر کو اختیار کرے تو نکاح برقرار رہے گا اور نابالغہ ہے تو وقتِ بلوغ اسے یہ اختیار ہوگا کہ اپنے نفس کو اختیار کرے یا شوہر کو۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: خیارِ عتق سے نکاح فسخ ہونا حکمِ قاضی پر موقوف نہیں اور اگر آزادی کی خبر سن کر ساکت رہی تو خیار(5) باطل نہ ہوگا، جب تک کوئی فعل ایسا نہ پایا جاوے جس سے نکاح کا اختیار کرنا سمجھا جائے اور مجلس سے اٹھ کھڑی ہوئی تو اب اختیار نہ رہا اور اگر اب یہ کہتی ہے کہ مجھے یہ مسئلہ معلوم نہ تھا کہ آزادی کے بعد اختیار ملتا ہے تو اس کا یہ جہل عذر قرار دیا جائے گا، لہٰذامسئلہ معلوم ہونے کے بعد اپنے نفس کو اختیار کیا نکاح فسخ ہوگيا اور یہ اختیار صرف باندی کے ليے ہے، غلام کو نہیں اور خیارِ بلوغ یعنی نابالغ کا نکاح اگر اس کے باپ یا دادا کے سوا کسی اور ولی نے کیا ہو تو وقتِ بلوغ اسے فسخِ نکاح کا اختیار ملتا ہے مگر خیارِ بلوغ سے نکاح فسخ ہونا حکم قاضی پر موقوف ہے اور بالغ ہوتے وقت اگر سکوت کیا تو خیار جاتا رہا، جبکہ نکاح کا علم ہو اور یہ آخر مجلس تک نہیں رہتا بلکہ فوراً فسخ کرے تو فسخ ہوگا ورنہ نہیں اور اس میں جہل عذر نہیں اور خیارِ بلوغ عورت و مرد دونوں کے ليے حاصل۔ (6) (خانیہ وغیرہ)
مسئلہ ۳۳: نکاح کنیز کی خوشی سے ہوا تھا، جب بھی خیارِعتق اسے حاصل ہے اور اگر بغیر اجازت مولیٰ نکاح کیا تھا