دونوں ساقط اور غلام خالص مہر و نفقہ کے سبب بیچ ڈالا جائے گا اور مدبر مکاتب نہ بیچے جائیں بلکہ انھیں حکم دیا جائے کہ کما کر اداکرتے رہیں۔ ہاں مکاتب اگر بدل کتابت سے عاجز ہو تو اب مکاتب نہ رہے گا اور مہر و نفقہ میں بیچا جائے گا اور غلام کی بیع اُس کا مولیٰ کرے، اگر وہ انکار کرے تو اس کے سامنے قاضی بیع کر دے گا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جن داموں کو فروخت ہو رہا ہے، مولیٰ اپنے پاس سے اتنے دام دیدے اور فروخت نہ ہونے دے۔ (1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: مہرمیں فروخت ہوا مگر وہ دام ادائے مہر کے ليے کافی نہ ہوں تو اب دوبارہ فروخت نہ کیا جائے بلکہ بقیہ مہر بعد آزادی طلب کرسکتی ہے اور اگر خود اسی عورت کے ہاتھ بیچا گیا تو بقیہ مہر ساقط ہوگيا اور نفقہ میں بیچا گیا اور اُن داموں سے نفقہ ادا نہ ہوا تو باقی بعد عتق (2) لے سکتی ہے اور بیع کے بعد پھر اورنفقہ(3) واجب ہوا تو دوبارہ بیع ہو، اس میں بھی اگر کچھ باقی رہا تو بعد آزادی۔ يوہيں ہر جدید نفقہ میں بیع ہو سکتی ہے اور بقیہ میں نہیں۔ (4) (درمختار)
مسئلہ ۵: کسی نے اپنے غلام کا نکاح اپنی لونڈی سے کر دیا تو اصح یہ ہے کہ مہر واجب ہی نہ ہوا یعنی جب کنیز ماذونہ (5) ، مدیونہ(6) نہ ہو، ورنہ مہر میں بیچا جائے گا۔ (7) (درمختار)
مسئلہ ۶: غلام کا نکاح اس کے مولیٰ نے کر دیاپھر فروخت کر ڈالا ،تو مہر غلام کی گردن سے وابستہ ہے یعنی عورت جب چاہے اسے فروخت کرا کر مہر وصول کرے اور عورت کو یہ بھی اختیار ہے کہ پہلی بیع فسخ کرا دے۔ (8) (درمختار)
مسئلہ ۷: مولیٰ کو اپنے غلام اور لونڈی پر جبری ولایت ہے یعنی جس سے چاہے نکاح کر دے، ان کو منع کا کوئی حق نہیں مگر مکاتب و مکاتبہ کا نکاح بغیر اجازت نہیں کرسکتا اگرچہ نابالغ ہوں کر دے گا تو ان کی اجازت پر موقوف رہے گا اور اگر نابالغ مکاتب و مکاتبہ نے بدل کتابت ادا کر دیا اور آزاد ہوگئے تو اب مولیٰ کی اجازت پر موقوف ہے جبکہ اور کوئی عصبہ نہ ہو کہ یہ بوجہ نابالغی اجازت کے اہل نہیں اور اگر بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز ہوئے تو مکاتب غلام کا نکاح اجازت مولیٰ پر موقوف ہے اور مکاتبہ کا باطل۔ (9) (عالمگیری)