Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
82 - 106
تمھارے ہاتھ مالک ہیں، ایمان والی باندیاں اور اﷲ (عزوجل) تمھارے ایمان کو خوب جانتا ہے، تم میں ایک دوسرے سے ہے تو اُن سے نکاح کرو ان کے مالکوں کی اجازت سے اور حسب دستور ان کے مہر انھيں دو۔ 

    حدیث ۱: امام احمد و ابو داود و ترمذی و حاکم جابر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو غلام بغیر مولیٰ کی اجازت کے نکاح کرے، وہ زانی ہے۔'' (1) 

    حدیث ۲: ابو داود ابن عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ حضور (صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ''جب غلام نے بغیر اجازت مولیٰ کے نکاح کیا، تو اس کا نکاح باطل ہے۔'' (2) 

    حدیث ۳: امام شافعی و بیہقی حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے راوی، انھوں نے فرمایا: ''غلام دو عورتوں سے نکاح کر سکتا ہے، زیادہ نہیں۔'' (3) 

    مسئلہ ۱: لونڈی غلام نے اگر خود نکاح کر لیا یا ان کا نکاح کسی اور نے کر دیا تو یہ نکاح مولیٰ کی اجازت پر موقوف ہے جائز کر دے گا نافذ ہو جائے گا، رد کر دے گا باطل ہو جائے گا، پھر اگر وطی بھی ہو چکی اور مولیٰ نے رد کر دیا تو جب تک آزاد نہ ہو لونڈی اپنا مہر طلب نہیں کر سکتی، نہ غلام سے مطالبہ ہوسکتا ہے اور اگر وطی نہ ہوئی جب تو مہر واجب ہی نہ ہوا۔ (4) (درمختار، ردالمحتار) یہاں مولیٰ سے مراد وہ ہے جسے اس کے نکاح کی ولایت حاصل ہو، مثلاً مالک نابالغ ہو تو اس کا باپ یا دادا یا قاضی یا وصی اور لونڈی، غلام سے مراد عام ہیں، مدبّر، مکاتب، ماذون، ام ولد یا وہ جس کا کچھ حصہ آزاد ہوچکا سب کو شامل ہے۔ (5) (درمختار، ردالمحتار) 

    مسئلہ ۲: مکاتب اپنی لونڈی کا نکاح اپنے اذن سے کر سکتا ہے اوراپنا یا اپنے غلام کا نہیں کرسکتا اور ماذون غلام، لونڈی کا بھی نہیں کر سکتا۔ (6) (ردالمحتار) 

    مسئلہ ۳: مولیٰ کی اجازت سے غلام نے نکاح کیا تو مہر و نفقہ خود غلام پر واجب ہے، مولیٰ پر نہیں اور مر گیا تو مہر و نفقہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''جامع الترمذی''،أبواب النکاح،باب ماجاء في نکاح العبد...إلخ،الحدیث:۱۱۱۳،ج۲،ص۳۵۹. 

2۔۔۔۔۔۔''سنن أبي داود''،کتاب النکاح،باب فی نکاح العبد...إلخ،الحدیث:۲۰۷۹،ج۲،ص۳۳۱. 

3۔۔۔۔۔۔''السنن الکبری''،للبیھقي،کتاب النکاح،باب نکاح العبد...إلخ،الحدیث:۱۳۸۹۷،ج۷،ص۲۵۶. 

4۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۶. 

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''و''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۶.

6۔۔۔۔۔۔ ''ردالمحتار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۱۶.
Flag Counter