Brailvi Books

بہارِشریعت حصّہ ہفتم (7)
84 - 106
    مسئلہ ۸: غلام نے بغیر اذن مولیٰ نکاح کیا، اب مولیٰ سے اجازت مانگی اس نے کہا طلاق رجعی دیدے تو اجازت ہوگئی اور پہلا نکاح صحیح ہوگيا اور کہا طلاق دیدے یا اُسے علیحدہ کر دے تو یہ اجازت نہیں بلکہ پہلا نکاح رد ہوگيا۔ (1) (درمختار) 

    مسئلہ ۹: مولیٰ سے نکاح کی اجازت لی اورنکاح فاسد کیا تو اجازت ختم ہوگئی یعنی پھر نکاح صحیح کرنا چاہے تو دوبارہ اجازت لینی ہوگی اور نکاح فاسد میں وطی کر لی ہے تو مہر غلام پر واجب یعنی غلام مہر میں بیچا جا سکتا ہے اور اگر اجازت دینے میں مولیٰ نے نکاحِ صحیح کی نیت کی تھی تو اس کی نیت کا اعتبار ہوگا اور نکاحِ فاسدکی اجازت دی تو یہی نکاحِ صحیح کی بھی اجازت ہے بخلاف وکیل کہ اس نے اگر پہلی صورت میں نکاح فاسد کر دیا، تو ابھی وکالت ختم نہ ہوئی دوبارہ صحیح نکاح کر سکتا ہے اور اگر اسے نکاحِ فاسد کا وکیل بنایا ہے تو نکاحِ صحیح کا وکیل نہیں۔ (2) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۰: غلام کو نکاح کی اجازت دی تھی، اس نے ایک عقد میں دو ۲ عورتوں سے نکاح کیا تو کسی کا نہ ہوا۔ ہاں اگر اجازت ایسے لفظوں سے دی جن سے تعمیم (3)سمجھی جاتی ہے تو ہو جائے گا۔ (4) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۱: کسی نے اپنی لڑکی کا نکاح اپنے مکاتب سے کر دیا پھر مر گیا تو نکاح فاسد نہ ہوگا۔ ہاں اگر مکاتب بدل کتابت ادا کرنے سے عاجز آیا تو اب فاسد ہو جائے گا کہ لڑکی اسکی مالکہ ہوگئی۔ (5) (درمختار) 

    مسئلہ ۱۲: مکاتب یا مکاتبہ نے نکاح کیا اور مولیٰ مر گیا تو وارث کی اجازت سے صحیح ہو جائے گا۔ (6) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۳: لونڈی کا نکاح ہوا تو جو کچھ مہر ہے مولیٰ کو ملے گا، خواہ عقد سے مہر واجب ہوا ہو یا دخول سے، مثلاً نکاحِ فاسد کہ اس میں نفسِ نکاح سے مہر واجب نہیں ہوتا مگر مکاتبہ یا جس کا کچھ حصہ آزاد ہوچکا ہے، کہ ان کا مہر انھیں کو ملے گا مولیٰ کو نہیں۔ کنیز کا نکاح کر دیا تھا پھر آزاد کر دیا اب اُس کے شوہر نے مہر میں کچھ اضافہ کیا تو یہ بھی مولیٰ ہی کوملے گا۔ (7) (عالمگیری) 

    مسئلہ ۱۴: بغیر اجازت مولیٰ نکاح کیا اور اجازت سے پہلے طلاق دے دی تو اگرچہ یہ طلاق نہیں مگر اب مولیٰ کی اجازت سے بھی جائز نہ ہوگا۔ (8) (عالمگیری)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۲۱. 

2۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۲۳۔۳۲۵.     3۔۔۔۔۔۔یعنی عام اجازت۔

4۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۲. 

5۔۔۔۔۔۔''الدرالمختار''،کتاب النکاح،باب نکاح الرقیق،ج۴،ص۳۲۶ . 

6۔۔۔۔۔۔''الفتاوی الھندیۃ''،کتاب النکاح،الباب التاسع في نکاح الرقیق،ج۱،ص۳۳۳. 

7۔۔۔۔۔۔المرجع السابق،ص۳۳۲.         8۔۔۔۔۔۔ المرجع السابق،ص۳۳۲.
Flag Counter