نکاح میں مہر نہیں ہوسکتی، کافر کے نکاح میں بھی نہیں ہو سکتی سوا شراب و خنزیر کے کہ یہ کافر کے مہر میں ہو سکتے ہیں، مسلمان کے نہیں۔ (1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۶۷: کافر کا نکاح بغیر مہر کے ہوا یعنی مہر کا ذکر نہ آیا یا کہا کہ مہر نہیں دیا جائے گا یا مردار کا مہر باندھا اور یہ ان کے مذہب میں جائز بھی ہو یعنی ان صورتوں میں ان کے یہاں مہرِ مثل کا حکم نہ دیا جاتا ہو تو ان صورتوں میں عورت کو مہر نہ ملے گا اگرچہ وطی ہو چکی ہو یا قبل وطی طلاق ہوگئی ہو یا شوہر مر گیا ہو اگرچہ وہ دونوں اب مسلمان ہوگئے یا مسلمانوں کے پاس اس کا مقدمہ پیش کیا ہو، ہاں باقی احکام نکاح ثابت ہوں گے، مثلاً وجوب نفقہ، وقوع طلاق، عدّت، نسب، خیار بلوغ وغیرہ وغیرہ۔ (2) (درمختار)
مسئلہ ۶۸: نابالغ نے بغیر اجازت ولی نکاح کیا اور وطی بھی کر لی پھر ولی نے رد کر دیا تو مہر لازم نہیں۔ (3) (خانیہ)
مسئلہ ۶۹: نابالغہ کے باپ کو حق ہے کہ اپنی لڑکی کا مہرِ معجل شوہر سے طلب کرے اور اگر لڑکی قابلِ جماع ہے توشوہررخصت کرا سکتا ہے اور اس کے ليے کسی سِن (4) کی تخصیص نہیں اور اگر اس قابل نہیں اگرچہ بالغہ ہو تو رخصت پر جبر نہیں کیا جاسکتا۔ (5) (درمختار، ردالمحتار)